تاجروں کا شٹرڈاو¿ن ہڑتال کا اعلان

راولپنڈی (مشرق نیوز)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ‘ہراسانی’ اور ’تاجرمخالف حکومتی پالیسی‘ کے خلاف آل پاکستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کی احتجاجی کال پر راولپنڈی اور اسلام آباد کی ایسوسی ایشنز نے کل (29 اکتوبر) سے تمام بازار اور مارکیٹس 2 دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا۔راولپنڈی شہر اور کنٹونمنٹ کے تاجروں نے اعلان کیا کہ تمام بازار اور مارکیٹس منگل اور بدھ کو مکمل طور پر بند رہیں گی۔اس حوالے سے مقامی ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس میں راولپنڈی ٹریڈرز ایسوسی ایشن اور کنٹونمنٹ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ مرکزی ایسوسی ایشن کی کال پر تمام مارکیٹس اور بازار بند کردیے جائیں گے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے تاجر برادری کو ہراساں کررہی ہے، تاجر ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور حکومتیں مراعات اور سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں، تاہم موجودہ حکومت تاجر برادری کے لیے مسائل پیدا کررہی ہے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ورنہ شٹرڈاو¿ن ہڑتال کے دورانیے میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔تاجربرادری نے وزیراعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ ان کے مسائل دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔دوسری جانب اسلام آباد میں تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس متعارف کرائے۔اسلام آباد یونائیٹڈ گروپ کے وائس چیئرمین سرفراز مغل نے کہا کہ شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی وجہ سے معیشت کو بڑا نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا یہ ناممکن ہے کہ معاشی بحران کی وجہ سے ایف بی آر کی تمام شرائط تسلیم کرلی جائیں، حکومت کو تاجروں کے ساتھ مذاکرات کر کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس کرنے سے انہیں معلوم ہوگا کہ سالانہ ٹیکس کی ادائیگی کتنی کرنا ہوگی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر حکام رشوت کی پیشکش پر مجبور کرتے ہیں اور آدھا ٹیکس حکومت کو جمع کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں، تاہم فکسڈ ٹیکس کی وجہ سے حکام کی بلیک میلنگ تھم سکے گی۔تمام معاملے پر ایک تاجر حبیب اللہ زاہد نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ محکمہ ٹیکس کے 22 ہزار افسران کی وجہ سے ٹیکس جمع کرنے میں مشکلات ہورہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرئط ختم کرکے فکسڈ ٹیکس نافذ کردیا جائے۔

TOPSHOT – A Pakistani elderly man sits at a shuttered market during a traders countrywide strike against the prices hike, in Peshawar on July 13, 2019. (Photo by ABDUL MAJEED / AFP)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پیمرا نے اینکرز کو پروگرامز میں اپنی رائے دینے سے روک دیا

پیر اکتوبر 28 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد(مشرق نیوز) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹیلی ویڑن (ٹی وی) اینکرز کو ٹاک شوز کے درمیان اپنی ’ رائے‘ کے اظہار سے روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کا کردار ثالث(ماڈریٹر) تک محدود کردیا۔مشرق ٹی و ی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔