بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات پر چیف جسٹس کا از خود نوٹس

بلوچستان (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ایف آئی اے نے بلوچستان یونیورسٹی کے تین افسران سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے حوالے سے تفتیش کی۔ایف آئی اے کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے افسرا کے ہاتھوں ہراساں ہونے والے طلبہ میں اکثریت طالبات کی ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے ازخود نوٹس کی روشنی میں ایف آئی اے نے متعدد مرتبہ چھاپے مارے اور یونیورسٹی کے عہدیداروں سے تفتیش کی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کو ہراساں کرنے کے الزامات پر تحقیقات کرکے 28 اکتوبر تک رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جائے۔بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے شکایات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘کسی کو نہیں بخشا جائے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا ہے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ایف آئی اے کے افسر کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں طالبات کو ہراساں کرنے کی 12ویڈیوز موصول ہوئی ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے طالبات کو ہراساں کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باوجود مزید 6 اضافی کیمرے نصب کردیے تھے۔تفتیش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اسکینڈل کی جامع تفتیش شروع کردی ہے اور یونیورسٹی کے 200 عہدیدارو سے تفتیش کی گئی ہے۔ایف آئی اے کے افسر کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کسی افسر کو تاحال گرفتار نہیں بلکہ ان سے تفتیش کررہے ہیں اور باقاعدہ گرفتاریاں مقدمے کے اندراج کے بعد کی جائیں گی’۔خیال رہے کہ رواں برس مئی میں لاہور ہائی کورٹ نے طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے سے متعلق مقدمے میں ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کے خلاف نجی یونیورسٹی کے پروفیسر کی پٹیشن خارج کردی تھی۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جاوید حسن نے درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستان مردوں کی سوسائٹی ہے جہاں خواتین کو کام کی جگہ پر مخالفت اور رکاوٹ کا سامنا رہتا ہے جس کے بعث ملکی ترقی میں ان کا حصہ محدود ہوجاتا ہے۔مئی 2018 میں اسلام آباد میں بحریہ کالج کی طالبات کو انٹرمیڈیٹ کے عملی امتحانات کے دوران وفاقی بورڈ کے مقرر کردہ امتحانی عملے کی جانب سے مبینہ طور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔بحریہ کالج اسلام آباد کے پرنسپل اقبال جاوید نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے سامنے اٹھایا گیا ہے تاہم بورڈ کی جانب سے اس عمل میں ملوث شخص کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وزیر اعظم نے مہنگائی کوکنٹرول کرنے کیلئے جمعہ کووزرائے اعلیٰ کا اجلاس طلب کرلیا،مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

پیر اکتوبر 14 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ وزیر اعظم نے مہنگائی کوکنٹرول کرنے کیلئے جمعہ کووزرائے اعلیٰ کا اجلاس طلب کیا ہے ، کابینہ نے رئیل سٹیٹ ریگولر اتھارٹی کے قیام کی منظوری […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔