بحری اڈے پر حملہ: امریکا میں زیر ترتیت 175 سعودی ہوا باز طالبعلم گراؤنڈ

0

واشنگٹن: فلوریڈا میں امریکی بحریہ کے ایک اڈے پر گزشتہ ہفتے سعودی فضائیہ کے لیفٹیننٹ کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد زیر تربیت 175 سعودی ہوا بازوں کو ‘حفاظتی اقدامات’ کے تحت گراؤنڈ کردیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی فضائیہ کے 21 سالہ اہلکار لیفٹیننٹ محمد سعید الشامرانی نے فائرنگ کرکے 3 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

بعدازاں پولیس کی فائرنگ سے محمد سعید الشامرانی ہلاک ہوگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سعودی فضائیہ کے زیر تربیت اہلکار نے فلوریڈا کے شہر پینساکولا میں بحریہ کے ایک اڈے پر تنہا کارروائی کی۔

مذکورہ واقعہ کے بعد یمن میں جنگ اور گزشتہ برس واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر کانگریس میں سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کو مبینہ طور پر استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں قتل کردیا گیا تھا۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور دیگر مغربی حکومتوں نے الزام لگایا تھا کہ محمد بن سلمان نے صحافی خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے تاہم سعودی حکام کا کہنا تھا کہ اس میں ولی عہد کا کوئی کردار نہیں تھا۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے سعودی ولی عہد اور دیگر سعودی حکام کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

فلوریڈا میں امریکی بحریہ کے ایک اڈے پر حملے کے بعد زیر تربیت سعودی ہوا بازوں کے لیے صورتحال مایوس کن ہوگئی ہے۔

اس ضمن میں امریکی بحریہ کے ترجمان لیفٹیننٹ آندریانا جینولیڈی نے بتایا سعودی عرب کے زیر تربیت ہواباز کے لیے حفاظتی اقدامات اور ‘آپریشنل تعطل’ (9 دسمبر) سے شروع ہوا’۔

ایک اور امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ سعودی طالبعلموں کو گراؤنڈ کرنے کا مقصد بالآخر اپنی تربیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار کرنا ہے اور اگر ایسا کوئی واقعہ امریکی فوجی دستے میں پیش آتا تو اسی طرح کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا۔

آندریانا جینولیڈی نے کہا کہ گراؤنڈنگ میں تین مختلف فوجی سہولیات شامل ہیں: نیول ایئر اسٹیشن پینساکولا، نیول ایئر اسٹیشن وائٹ فیلڈ اور نیول ایئر اسٹیشن میپورپورٹ جو تمام فلوریڈا میں ہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.