ایم کیو ایم کے تحفظات؛ وزیراعظم کی ہدایت پر پیر کو حکومتی وفد ملاقات کرے گا

0

 اسلام آباد / کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے وزارت سے علیحدگی کے اعلان کے بعد حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کو منانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے وزارت سے علیحدگی کے اعلان کے بعد حکومت ایکشن میں آگئی ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے اہم رہنماؤں اسد عمر، جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کو ہدایات دی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم قیادت سے کل ملاقات کرے گا۔

اسد عمر کو ایم کیو ایم رہنماؤں کا صاف جواب

وفاقی وزیر اسد عمر نے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ ٹیلی فونک گفتگو میں ایم کیو ایم قیادت کی جانب سے کہا گیا کہ صرف اور صرف وعدے کئے جارہے ہیں، کراچی کو ایک روپیہ نہیں دیا گیا، وعدوں کے باوجود کراچی کے مئیر کو ترقیاتی کاموں کی مد میں 25 ارب روپے نہیں دئیے گئے،حیدر آباد کے مئیر کو 5 ارب روپے کی ادائیگی کرنی تھی جو نہ ہوسکی، پارٹی پر عوام کا بہت دباؤ ہے، اب ایم کیو ایم کو وفاق میں وزارتیں نہیں چاہیئیں، اب وزارتیں نہیں عوامی مسائل حل کئے جائیں۔

وزیر اعظم کی گورنر سندھ کو ہدایت

اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ٹیلی فون پر بات کی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ ایم کیوایم کے مطالبات جائز ہیں، حکومت کیے گئے تمام وعدے وفا کرے گی، سندھ کی مقامی قیادت ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات کرے۔

گورنر سندھ کا بھی ٹیلی فون

جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں گلے شکوے دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، گورنر سندھ نے کہا کہ ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے، ایم کیو ایم سے کئے گئے تحریری معاہدے پر مکمل عمل در آمد کیا جائے گا، بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے، جلد کراچی کو فنڈ جاری کئے جائیں گے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کی جانب سے پہلےرابطہ نہ کرنے کا گلہ کیا گیا۔شیئر

Leave A Reply

Your email address will not be published.