ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو2020تک گرے لسٹ میں رکھنے کافیصلہ

0

پیرس(مشرق نیوز)پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو فروری2020تک بدستور فورس کی گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا باخبر اور معتمد ذرائع کے مطابق فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میںمنی لانڈرنگ و دہشتگردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں فورس نے فیصلہ کیا دہشتگردی کی مالی معاونت کے خاتمے کےلئے پاکستان کو فروری 2020ءتک کی مزید مہلت دے دی جائے،ذرائع کے مطابق اجلاس میں بھارت کی طرف سے حافظ سعید کو منجمد اکاو¿نٹ سے رقوم نکلوانے کی اجازت دئیے جانے پر پاکستان کو فورس کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی اس کے علاوہ ٹاسک فورس نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے منی لانڈرنگ و دہشتگردوں کی مالی معاونت جیسے معاملات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے باعث پاکستان کو مبینہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا،ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتکار پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھے جانے کے کے فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں، اجلاس میں فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشتگردوں کی مالیاتی وسائل تک رسائی کی روک تھام کےلئے کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا تاہم ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پر مزید عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا،36ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کےلئے کم از کم 3ممالک کی حمایت لازمی ہے، باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا پاکستان کو مزید 4 ماہ تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا اسلام آباد 4ماہ میں مزید اقدامات کرے، ذرائع نے بتایا تنظیم کی جانب سے یہ بھی کہا گیا اگر پاکستان منی لانڈرنگ روکنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف تسلی بخش اقدامات میں ناکام رہا تو اسے ممکنہ طور پر بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے،ایف اے ٹی ایف حتمی فیصلہ اگلے برس فروری میں کرے گااوراس حوالے سے فیصلے کا باقاعدہ اعلان جمعہ 18 اکتوبر کو ہوگا

Leave A Reply

Your email address will not be published.