ایشز کے آخری میچ میں انگلینڈ کی آسٹریلیا کو شکست، سیریز برابر

انگلینڈ نے ایشز سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں آسٹریلیا کو باآسانی 135 رنز سے شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کردی۔

اوول میں کھیلے گئے سیریز کے آخری میچ کا فیصلہ چوتھے روز ہوا جہاں آسٹریلیا کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 399 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 263 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔

قبل ازیں انگلینڈ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 329 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی جس کے بعد آسٹریلیا کو جیت کے لیے 399 رنز کا ایک مشکل ہدف مل گیا تھا۔

تجربہ کار باؤلر اسٹورٹ براڈ اور جیک لنچ نے 4،4 وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلیا کے لیے ہدف کا حصول ناممکن بنا دیا۔

ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کا آغاز بھی مایوس کن تھا اور مایہ ناز بلے باز اسمتھ سمیت ابتدائی 4 وکٹیں 85 رنز پر گر گئی تھیں جس کے بعد میتھیو ویڈ کے علاوہ دیگر بلے باز وکٹ پر ٹھہرنے میں مکمل ناکام رہے۔

اسٹیو اسمتھ دوسری اننگز میں صرف 23 رنز بنا کر براڈ کی وکٹ بنے تاہم ویڈ نے 117 رنز کی ایک اچھی اننگز کھیلی، ان کے علاوہ کوئی اور بلے باز نصف سنچری بھی نہ بناسکا۔

آسٹریلیا کی پوری ٹیم 399 رنز کے مقررہ ہدف کے حصول میں چوتھے روز 263 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور میچ 135 رنز کے واضح مارجن سے ہار گئی تاہم دومیچوں میں کامیابی کی بدولت سیریز میں شکست سے بچ گئی۔

ایشز کے پانچویں میچ کی پہلی اننگز میں 6 وکٹیں لینے والے انگلینڈ کے نوجوان باؤلر جوفرا آرچر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، آسٹریلیا کے اسٹیو اسمتھ اور انگلینڈ کے آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو مشترکہ طور پر سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا نے پہلے میچ میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد دوسرا میچ برابری پر ختم ہوا تھا تاہم تیسرے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کےبعد انگلینڈ نے میچ جیت لیا تھا۔

سیریز کا چوتھا میچ اسمتھ کی شان دار بلے بازی کے باعث آسٹریلیا کے نام رہا تھا لیکن آخری میچ میں آسٹریلیا کی بیٹنگ ناکا رہی اور سیریز جیتنے کے خواب بھی چکنا چور ہوگئے۔

اسمتھ نے سیریز میں 110 سے زائد اوسط سے مجموعی طور پر 774 رنز بنا کر سرفہرست بلے باز رہے، بین اسٹوکس 441 رنز بنا دوسرے نمبر پر رہے۔

سیریز میں بہترین باؤلنگ کا پیٹ کمنز کی رہی جنہوں نے سب سے زیادہ 29 وکٹیں حاصل کیں جبکہ انگلینڈ کے اسٹورٹ براڈ نے 23 وکٹیں اپنے نام کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے 20 کھلاڑیوں کا اعلان

پیر ستمبر 16 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email لاہور: پی سی بی نے قومی ٹیم کے 20 کھلاڑیوں کو کیمپ کے لئے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے 20 کھلاڑیوں کو کیمپ میں رپورٹ کرنے کی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔