آصف زرداری، فریال تالپور سے ہفتے میں 2 روز ملاقات کی استدعا مسترد

احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے جیل میں ہفتے میں دو روز اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملاقات کی اجازت کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت میں سردار لطیف کھوسہ کی معاون وکیل نے موقف اپنایا کہ عدالت نے قانونی ٹیم میں سردار لطیف کھوسہ، شائستہ کھوسہ،شہباز کھوسہ جبکہ اہلِ خانہ میں بلاول، بختاور، آصفہ بھٹو زرداری اور رخسانہ بنگش کو ہفتے میں ایک دن ملنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے لیے پیر کا دن آصف زرداری اور ہفتے کا دن فریال تالپور کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

معاون وکیل نے استدعا کی کہ کراچی میں کیسز کے باعث اگر متعلقہ دن ملاقات نہ کر سکیں تو پورا ہفتہ انتظار کرنا پڑتا ہے لہٰذاعدالت ہفتے میں 2 دن ملاقات کرنے کا حکم دے۔

بعدازاں عدالت نے درخواست پر دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کرلیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے ہفتے میں 2 روز ملاقاتوں کی اجازت دینے کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

عدالت نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ہدایت کی کہ دونوں ملزمان سے ہفتے میں صرف ایک ہی روز ملاقات کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریاستی خرچ پر آصف علی زرداری کو ‘اے’ کلاس سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کو بھی مسترد کردیا تھا۔

تاہم عدالت نے انہیں اپنے ذاتی خرچ پر مختلف سہولیات فراہم کرنے یا ان کے سیل میں اُن چیزوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

16 اگست کو دیے گئے اس فیصلے کے مطابق سابق صدر کو اپنے ذاتی خرچ پر اپنے سیل میں فریج، ایئرکنڈیشنر، انٹرنیٹ کنیکشن اور ایک ذاتی ملازم رکھنے کی اجازت تھی۔

اس سے قبل کیا ہوا؟

خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔

مذکورہ کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں مسلسل توسیع ہوتی رہی تاہم آصف زرداری کو 10 جون جبکہ ان کی بہن کو 14 جون کو گرفتار کرلیا تھا جنہین بالترتیب 15 اگست اور 12 اگست کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

عوام کو ہائی کورٹ تک رسائی نہیں، تو خود سری نگر کا دورہ کروں گا، بھارتی چیف جسٹس

پیر ستمبر 16 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کا کہنا ہے کہ وہ خود مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر جاکر دیکھیں گے کہ وہاں عوام کو ہائی کورٹ تک کی رسائی ہے کہ نہیں تاہم انہوں نے مقبوضہ وادی میں معمولات زندگی کی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔