اقوام متحدہ کے اجلاس میںبھارتی جارحیت اور متنازع قانون کی صدائے بازگشت

0

گزشتہ روز منعقدہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارتی عزائم ، جارحیت اور شہریت کے متنازعہ قانون کی صدائے بازگشت حدت اور شدت کے ساتھ سنائی دی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بھارت کو خطے میں امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا حقیقت بھی یہی ہے کہ بھارت اپنے منفی اور متعصب و جارحانہ اقدامات کے باعث پورے خطے کی ترقی امن اور استحکام کے لئے ایک مستقل خطرہ بناہوا ہے حالیہ دنوں بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں شہرت کا ایک نیا قانون پیش کیاگیا جس کی رو سے پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کوتو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کوبھارتی ایوان زیریں میں منظور ی کے بعد یوان بالا میں بھی کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔ مسلم مخالف شہریت بل پر بھارت میںلوگو ں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر آگئی ہے احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے لوگوں نے کرفیو توڑ تے ہوئے احتجاج کیا اس دوران بھارتی فوج کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں آرہی ہیں جبکہ میڈیارپورٹس کے مطابق متنازعہ بل کے بعد بھارت کے تمام بڑے شہروں اور بالخصوص شمال مشرقی ریاستوں میں مظاہرین کی جانب سے جلاﺅ گھیراﺅ میں شدت آتی جارہی ہے یہ ایک ایسا متنازعہ بل ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف بھارتی اکثریت طبقے کے عزائم کھل کر آشکارا ہوئے ہیں جبھی تو وزیراعظم عمران خان نے اس رائے کااظہار کیا ہے کہ مودی منظم طریقے سے ہندو بالادستی ایجنڈے پر گامزن ہے دفتر خارجہ نے اس حوالے سے بیا ن دیا ہے کہ نئی دہلی کا اصل چہرہ سامنے آگیا،پاکستان متنازع قانون شہریت کو مسترد کرتا ہے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت کے منفی عزائم اور مسلمان دشمن شہریت قانون کی صدائے بازگشت سنائی دیتی رہی اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور شہریت کے متنازع بل پر شدید تنقید کی منیر اکرم نے کہا کہ بھارت خطے میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت آر ایس ایس کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے، آر ایس ایس نظریئے کی حامل حکومت نے دھونس، تشدد اور تعصب سے تمام ریاستی مشینری پر قبضہ کر رکھا ہے۔بھارت میں فسطائی نظام رائج کر کے مسلم شناخت اور ورثے کو مٹایا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی اقدامات دراصل ہندو تنگ نظری اور منظم اسلام دشمنی کا نتیجہ ہیں، وہاں بڑے پیمانے پر خونریزی اور نسل کشی کا خطرہ ہے۔متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ جاری ہے اور نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ پوری دنیامیں اس متنازع قانون کے خلاف لوگ صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مہاراشٹرا میں تعینات ایک بھارتی پولیس سروس کے سینیئر افسر نے تو احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بل کی مذمت کرتے ہوئے سول نافرمانی کرکے اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اس بل کا مقصد مسلمانوں میں خوف پھیلانا ہے بھارت میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر اقلیتیں بھی انتہائی غیر محفوظ ہیں اور بھارت میں ان کا جینا دوبھر کردیاگیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت گزشتہ سات عشروں سے جو کچھ کررہا ہے وہ تو اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی آج پوری دنیا جان چکی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرکے خطے کا امن اور استحکام داﺅ پر لگا رہا ہے اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے اجلاسوں سمیت دیگر فورمز پر بھارتی عزائم کی کھل کر مذمت ہوتی آئی ہے اور عالمی برادری اپنی تشویش کااظہار کرتی آئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت عالمی برادری کو آگے بڑھ کر بھارت کا ہاتھ روکنے کی ضرورت ہے اگر عالمی برادری نے اب بھی چپ کا روزہ نہ توڑا اور خاموش تماشائی بنی رہی تو اس سے خطے کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے جو کسی المیے سے کم نہ ہوگا ۔
سمگل شدہ تیل ، لاپرواہی اور غفلت کے باعث ایک اور افسوسناک حادثہ !!
جمعے کے روز علی الصبح کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر اور ملک کے دیگر صوبوں کے عوام کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے توسط سے اس افسوسناک خبر کا پتہ چلا کہ کوئٹہ ژوب شاہراہ پر ٹریفک کا ایک المناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں درجن بھر لوگ جھلس گئے ہیں رفتہ رفتہ صورتحال واضح ہوگئی اور حادثے کی جذئیات اور تفصیلات پوری طرح سے سامنے آگئیں جن کے مطابق کم از کم پندرہ افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے ہیں اور یہ افسوسناک حادثہ ایک مسافر بس اور سمگل شدہ تیل سے بھری ہوئی گاڑی کے مابین ٹکرانے کے نتیجے میں رونما ہوا ہے مقامی انتظامیہ نے جو تفصیلات میڈیاکو دی ہیں ان کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً ایک سو تیس کلومیٹر دور ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ اور کان مہترزئی کے درمیان کوئٹہ ژوب شاہراہ پر پیش آیا ہے حادثے کی اطلاع ملتے ہی قلعہ سیف اللہ ، مسلم باغ، کان مہترزئی سے ضلعی انتظامیہ، ایف سی، پولیس اور لیویز کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا تاہم حادثہ انتہائی خطرناک اور بڑا تھا جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رضاکاروں اور انتظامیہ کے پہنچنے سے قبل ہی دونوں گاڑیاں تباہ ہوگئی تھیں اور بس میں موجود تمام افراد بری طرح سے جھلس کر جاں بحق ہوگئے جاں بحق ہونے والوں کی نعشیں ناقابل شناخت ہوچکی ہیں انتظامیہ نے جھلسی ہوئی نعشیں نکال کر کوئٹہ منتقل کردیں اور بتایا گیا ہے کہ نعشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوپائے گی مقامی انتظامیہ نے میڈیا کو یہ بھی بتایاہے کہ حادثے میں اتنی بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع کا محرک تیل سے بھرا پک اپ تھا جس سے مسافر بس ٹکرا گئی اور آگ بھڑک اٹھی ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدے دار کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ پک اپ گاڑی میں ایرانی تیل سمگل کرکے لایا جارہا تھا جو حادثے کے بعد آگ لگنے کا سبب بنابلوچستان میں اس قبیل کے افسوسناک واقعات اور حادثات کا پیش آنا اب معمول بنتا جارہا ہے ایرانی (سمگل شدہ ) پٹرول اور ڈیزل کے کاروبار سے گوکہ لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار صوبے میں لاکھوں لوگوں کے روزگار کا وسیلہ چھین لینا درست نہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ قومی شاہراہوں اور سڑکوں پر چلتے پھرتے بموں کو سرعام انسانی جانوں سے کھیلنے کا موقع دیا جاتا رہے کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ ہر ضلع اور ہر علاقے میں ا س طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تین چار سال قبل مسافر بس اور آئل ٹینکر میں تصادم کے ایک ہی حادثے میں چالیس سے زائد افراد جھلس کر مر گئے ابھی رواں برس بھی اسی نوعیت کے ایک ہی حادثے میں ایک ساتھ 27افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے جبکہ رواں برس اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں اسی نوعیت کے ایک حادثے میں کمشنر مکران ڈویژن کیپٹن ریٹائرڈ محمد طارق زہری سمیت دیگر چار افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے اس حادثے کے بعد صوبائی حکومت نے ایرانی سمگل شدہ تیل کی خریدوفروخت اور سمگلنگ کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ کیا ایک آدھ ہفتہ پابندی رہی پھر غیر اعلانیہ طور پر کوئٹہ کراچی اور دیگر شاہراہیں چلتے پھرتے بموں سے اٹ گئیں ہر طرف تیل سے لدی چھوٹی بڑی گاڑیاں حتیٰ کہ موٹرسائیکلیں تک نظر آتی ہیں ان گاڑیوں کی وجہ سے حادثات کی شرح بہت خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے کان مہترزئی میں پیش آنے والا حادثہ کس کی غفلت اور لاپرواہی سے پیش آیا اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر آپس میں ٹکرانے والی گاڑیوں میں سے ایک میں تیل لدا ہوا نہ ہوتا تو پندرہ افراد بری طرح سے جھلس کر ناقابل شناخت حالت میں موت کی وادی میں نہ اترتے ہم جاں بحق افراد کے لواحقین کے درد اور غم میں برابر کے شریک ہیں یقینا پوری دنیا میں ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں حادثات وواقعات کی راہ سو فیصد نہیں روکی جاسکتی لیکن موثر احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان حادثات وواقعات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے پس ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان حکومت اس حوالے سے ابھی بیٹھ کر ایک موثر ، جامع اور قابل عمل لائحہ عمل بنائے ۔ اس بات میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں کہ بلوچستان میں روزگار کے ذرائع انتہائی محدود ہیں حکومت چاہتے ہوئے بھی تمام بے روزگاروں کو روزگار نہیں دے سکتی ، صوبے میں زراعت اور مالداری سمیت دیگر جتنے پیداواری شعبے ہیںان کی بحالی و بہتری کے لئے ماضی میں خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے یہ بات بھی تسلیم کہ صوبے میں روزگار کے ذرائع نہ ہونے سے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد سرحدی تجارت اور ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز ہرگز نہیں کہ ایک تو قومی خزانے کو کوئی فائدہ نہ پہنچے اور اوپر سے اس کاروبار کی وجہ سے لوگ شاہراہوں پر سفر کرنے سے خوف محسوس کریں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.