اعتبار کی سیاست کا خاتمہ

سیاسی جماعتوں کے پاس مارجن بہت کم ہے۔یہ فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا کہ بد دستورطوقع غلامی گلے میں ڈالے رکھنا ہے یاقربانیاں دے کر حقیقی جمہوری فضا میں سانس لینی ہے تازہ ترین مثال حکومت سے مفاہمت کا تاثر پھیلنے کے بعد ن لیگی کا رکنوں کی جانب سے دکھایا جانے والا رد عمل ہے۔کارکنوں نے سرعام اور سوشل میڈیا پر اس شدت سے جذبات کا اظہار کیا کہ شہباز شریف کو آزادی مارچ میں احسن اقبال کی شرکت اور تقریر کرانا پڑ گئی۔اس سے پہلے مصدقہ خبریں ملی تھیں کہ شہباز شریف نے پارٹی رہنماﺅں کو سختی سے منع کردیا ہے۔طلال چودھری اورمیاں جاوید لطیف جیسے عقابوں کی تو باقاعدہ سرزنش کی گئی۔آزادی مارچ جب لاہور میں داخل ہو ا تو ن لیگ نے محض انٹری ڈالی۔حالانکہ وعدہ بھرپور شمولیت کا تھا۔یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ پنجاب بھر سے لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد ساتھ جائے گی۔جے یو آئی کی قیادت اس بات پر خفا تھی مگر سیاسی مصلحت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علا نیہ ردعمل نہیں دیا گیا۔اب جب کہ مولانا فضل الرحمن دھرنا جمائے بیٹھے ہیں اور رہبر کمیٹی مذاکرات میں مصروف ہے۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ آپ نے اس آزادی مارچ کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے انہیں کب پورا کررہے ہیں۔مولانا کادھرنااس حوالے سے بھی کامیاب ہے کہ ہر مکتبہ فکر کی نمایاں شخصیات خود وہاں جا کر اظہار یکجہتی کررہی ہیں۔ابھی بد ھ کو پاکستان با رکونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے وہاں جا کر شر کاءسے خطاب کیا۔ بنیادی بات یہی ہے کہ سیاسی کارکن خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یہ بات کہتے نظر آتے ہیں کہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت آ گیا ۔تشویشناک حالت میں نواز شریف کی ضمانت اور شدید علیل آصف زرداری کو ہسپتال پہنچانے کے بعد اب آگے اور کیا دیکھنا باقی ہے ۔مانا کہ ایسے اشارے موجود ہیں کہ اپوزیشن کے گرفتار رہنماﺅں کیخلاف انتقامی کارروائیوں سلسہ رکنے والا ہے۔لیکن یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ آخر اس تمام معاملے میں گارنٹر کون ہوگا؟اپوزیشن جماعتیں علانیہ ا داروں کونام لے کر پکار رہی ہیں کہ وہ سلیکٹڈ حکومت کی پشت پنا ہی کرنا چھوڑ دیں۔مشترکہ مطالبہ بھی یہی ہے کہ عمران خان استعفیٰ دیں۔نئے الیکشن کرائے جائیں جس میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔اسی دوران ڈی جی آئی ایس پی
آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک اور نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں واضح کردیا ہے کہ دھرنا ایک سیاسی سرگرمی ہے جس سے پاک فوج کا کچھ لینا دینا نہیں۔اسکے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ مولانا فضل الرحمن بھی پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی ہم سب کرتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے میجر جنرل آصف غفور کے اس بیان کو سر اہتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی ترجمان کا بیان خوش آئند ہے۔ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ادارے کسی طور متنازعہ نہ ہوں۔مولانا نے یہ بات دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔جس کے بعد جلسہ گاہ میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔مولانا فضل الرحمن ،عمران خان کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کیلئے بالکل تیار نہیں۔دوسری جانب کچھ وزراءہیں جو نجانے کس کی لائن پر ہیں اورجلتی پر تیل ڈالتے ہوئے کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ادھر اپوزیشن کی سائیڈ پربھی بعض دلچسپ اطلاعات ہیں۔ کہا جا رہاہے کہ شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوار بن چکے ہیں جبکہ حکومتی اتحادی چودھری پرویز ا لٰہی کانام پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے لیا جارہا ہے جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اداروں کی مداخلت سے پاک نئے الیکشن چاہتی ہیں وہیں ایسے عناصر بھی موجودہیں جواسی سیٹ اپ کو جاری رکھ کران ہاﺅس تبدیلی کے خواہش مند ہیں،یہ الگ بات ہے کہ حسب معمول بعد میں ان سے کوئی ہاتھ ہو گیا تو کسی سے سوال کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔سیدھی سی بات ہے دھرنا اپوزیشن کا آئینی اور قانونی حق ہی نہیں بلکہ نتیجہ خیز طور پر آگے بڑھنے کا راستہ بھی ہے۔اس کے علاوہ جو بھی آپشن اختیار کی جائے گی اسکی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔پاکستانی معیشت آئی ایم ایف کے شکنجے میں جا چکی ۔39ماہ کے اس ہار کو کاٹنے کے بعد اسکے نتائج بھی سامنے آئیں گے جو یقیناً خوشگوار نہیں ہونگے۔اس وقت ڈیل کر کے اقتدار لینا کانٹوں کا ہار اپنے گلے میں خود ڈالنے کے مترادف ہے ۔ویسے تو کوئی چکر ہی دے رہا ہے پھر بھی کسی ممکنہ پیش رفت کے نتیجے میں شہباز اینڈ کمپنی نے ایسی کوئی ڈیل کی تو پارٹی کے ساتھ سیاست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔بڑے دھرنے کے نتیجے میں نیا سوشل کنٹریکٹ ہونے تک سب بے کار اور لا حاصل ہے۔یہ مزاحمتی سیاست کا نتیجہ ہی ہے کہ آج نہ صرف جیلوں کے پھاٹک کھل رہے ہیں بلکہ میڈیا پر دباﺅ بھی کم ہو رہا ہے اسی چکر میں بڑے بڑے نامور تجزیہ کار بے نقاب ہو گئے ۔مفتی کفایت اللہ نے ٹاک شوز میں آکر پالشیوں اور مالشیوںکی دوڑیں لگوادیں۔بڑے سے بڑا دفاعی تجز یہ کاران کے روبرو بیٹھنے کی پوزیشن میں نہیں۔دیگر علماءکرام بھی اپنی حظابت کے ایسے ہی جوہر دکھا رہے ہیں ۔حکومت کا پلان تو وہی گھسا پٹا تھا کہ شہید ملت لیاقت علی خان سے شروع ہونے والا غدار وطن کاسر ٹیفکیٹ اب احتجاجی سیاستدانوں بالخصوص مولانا فضل الرحمن پر تھوپ دیا جائے۔ایسے میں جوش پر ہوش غالب آیا کہ کشمیر کے تناظر میں یہی پوائنٹ تو الٹا مولانا فضل الرحمن اٹھارہے ہیں حکومتی شخصیات کو کشمیر فروش قرار دیا جا رہا ہے اور یہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ موقف ہے۔اسی سبب سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہونے والا یہ70سالہ پرانا کارڈ دھرے کا دھرا رہ گیا۔اب یہ کہا جا رہا ہے کہ کرتار پورراہداری کا ذکرکرنا ملکی مفاد میں نہیں۔کمال ہے اس تمام پیش رفت کے حوالے سے جو باتیں 1974ءمیں مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری نے اپنی کتاب تحریک ختم نبوت کے صفحات225،224پر لکھی ہیں۔وہ آج مولانا فضل الرحمن اور دیگر حلقے دہرا رہے ہیں۔اب شیخ رشید سمیت ان وزیروں کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ان کا عجب مضحکہ خیز موقف ہے کہ کرتار پور راہداری کھلنے سے مسئلہ کشمیر کو فائدہ ہوگا۔مگر کیسے ؟یہ کو ئی نہیں بتا رہا ۔بغیر پاسپورٹ سکھوں کو کرتار پوریاترا کی اجازت دینا حیرت انگیز اور کشمیریوں کے زخموںپر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ مذہبی سیاحت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے مگر اس کے لیے معاملات ایسے بھی ہونے چاہئیں جودوممالک کے شہریوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ ہماراالمیہ بھی یہ ہے کہ ملک کا انتظام بونے اور ڈفر کرداروں کے ہاتھوں میں ہے۔ان کو یہ بھی علم نہیں کہ خالصتان کے نقشے میں لاہور کو دارالحکومت دکھایا گیا ہے ۔بغیر پاسپورٹ آمدو رفت کشمیر کی طرح متنازعہ علاقے میں تو ہو سکتی ہے جبکہ مشرقی (انڈین)اور مغربی (پاکستانی) پنجاب کے درمیان تو سرے سے کو ئی ایسا تعلق بنتا ہی نہیں۔مجوزہ خالصتان کا منصوبہ کتنا بڑا اور حساس ہے اور اس میں غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کیا کردار ہے؟یہ تمام باتیں قابل غور ہیںکیا ہی بہترہو کہ ریاستی ادارے اس موقع پر احسن اقبال کے اس سوال کا بھی جواب دے دیں کہ جب ن لیگ کے دور حکومت میں ورلڈ بنک کے تعاون سے کرتار پور منصوبے کو مکمل کرنے کا معاہد ہ طے پا گیاتھا تو اس وقت اسے کس نے اور کیوں روکا امریکی دفتر خارجہ نے دو ہفتے قبل جو بیان جاری کیا اس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بتانے،پاکستان سے ٹریننگ کیمپوں کے خاتمے کے مطالبات کرنے کے ساتھ کرتار پور راہداری کھولنے کا عمل تیز کرنے اور بہتر بنانے پر زور دیا گیا ۔باتیں بالکل واضح ہےںمگر ہمیں ہرحال میں ا پنا قومی مفاد مد نظر رکھناہے۔آج ہماری اپنی سفارتی پوزیشن یہ ہے کہ کابل میں ہمارے ہی سفارتخانے کے اندر27اکتوبرکو کشمیر کے حوالے سے ہونے والی تقریب کا انعقاد نا ممکن بنادیا گیا۔ہمارے سفارتخانوں پر حملے ہو رہے ہیںہم افغانستان سے سفارتی معاملات طے نہیںکر پارہے ۔ایف اے ٹی ایف کی صورت میں تلوار پہلے ہی ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے۔ اب آخر کتنے محاذ کھولے جاسکتے ہیں۔اب اطلاعات ہیں کہ نواز شریف اپنی بیٹی مریم کے ہمراہ علاج کیلئے بیرون ملک جانے والے ہیں ۔ان کو یہ پیکج بہت پہلے پیش کردیا گیا تھا۔تبدیلی صرف اتنی ہے کہ اب مریم نوازکو کچھ عرصے بعد سیاست کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ہم کروڑوں پاکستانی شہریوں کی طرح نواز شریف کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔اس حوالے سے فیصلہ تو شریف خاندان نے خود کرنا ہے لیکن بہتر ہو گا کہ جانے سے پہلے سیاسی پوزیشن واضح کردی جائے تاکہ کارکن اور حامی کسی کنفیوژن میں مبتلانہ رہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ آزادی حاصل کرنا آسان کام نہیں جان سمیت بہت کچھ داﺅ پرلگانا پڑتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ جب کوئی بے خوف ہو کر پکا ارادہ کرلے تو اپناحق حاص کر کے رہتا ہے یا اپنے چاہنے والوں کیلئے ایسا راستہ چھوڑ جاتا ہے جس پر چل کر کامیابی حاصل کر نا 100فیصدیقینی ہو جاتا ہے نواز شریف کا مقدمہ ویسے بھی مولانا فضل الرحمن ،محمود اچکزئی،اسفندیار ولی،حاصل بزنجو اوردیگر رہنما ان کی اپنی جماعت سے زیادہ بہتر انداز اورجرا¿ت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ دھرنے کے حوالے سے حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے فیصلوں کا حوالے دینے پر اتر آئے ہیں ۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا تو آنکھ میں شرم بھی نہیں پائی جاتی ۔مصطفی کمال کی یہ بات بالکل درست ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سنجیدگی سے فیصلہ کرلیں تو حکومت کا خاتمہ صرف ایک گھنٹے کی بات ہے۔ تحریک عدم اعتماد یا احتجاج جو پھر کرنا ہے سب کو مل کر کرنا ہے سیاسی رہنما کی یہ بات درست ہے کہ اگر اس حکومت کو ایسے ہی چلنے دیا گیا تو الیکشن بھی اسی پیٹرن پر کرادئیے جائیں گے پھر کوئی اور کٹھ پتلی مسلط ہو جائے گی۔فیصلہ ابھی کرنا ہوگا۔اگراپوزیشن تقسیم ہو کر نا کام رہی تو اگلے چند سالوں میں پھر کوئی ثاقب نثار اپوزیشن کے معروف ناموں کو نا اہل کرتا پایا جائے گا،محرر اینکرانکے خلاف کیچڑ اچھالیں گے۔نیب وغیرہ مقدمات بناتے نظرآئیں گے ۔ہم اس منحوس چکر سے کبھی نہ نکل سکیں گے۔حرف آخر یہ کہ جو بھی کریں بس کسی آزمائے ہو ئے پر اعتبار نہ کریں۔اس ہاتھ دو ،اس ہاتھ لو والا معاملہ ہونا چاہیے۔
تحریر،نوید چوہدری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آزادی مارچ اور فوج: صرف تردید ہی کافی نہیں

ہفتہ نومبر 9 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد میں آزادی مارچ کے ساتویں روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے احتجاج جاری رکھنے اور حکومت پر دباو? بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ رہبر کمیٹی کے سربراہ اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم درانی نے آج رہبر کمیٹی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔