اسلام آباد کے مدارس کی نگرانی شروع

اسلام آباد(بیورورپورٹ) وفاقی دارالحکومت میں سیاسی مذہبی جماعت کی آزادی مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائدین اور مدارس کی نگرانی شروع کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کی انتظامیہ کی ہدایت پر پولیس نے اپنی خصوصی برانچ کو الرٹ کردیا کہ وہ جے یو آئی (ف) سے منسلک مدارس، اساتذہ اور طلبہ سے متعلق معلومات اکٹھا کرے، اس کے علاوہ وہ مدارس، اساتذہ اور طلبہ جو جے یو آئی (ف) کی حمایت کرسکتے ہیں ان کی بھی شناخت کی جانی چاہیے۔اس سلسلے میں معلومات کے حصول کے لیے مدارس کے اندر اور باہر انٹیلی جنس کا کام شروع کردیا گیا عہدیداروں کو مدارس کے اطراف تعینات کردیا گیا ہے اور وہ مدارس آنے والے افراد کی نگرانی کر رہے اور ان کی فہرست بنا رہے، اس کے علاوہ اساتذہ اور سینئر طلبہ کی بھی نگرانی کی جارہی کہ وہ ان دنوں میں کس سے رابطہ اور ملاقات کر رہے ہیں۔عہدیدار نے بتایا کہ لوگوں سے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہے اور جو جے یو آئی (ف) اور دیگر سیاسی مذہبی جماعتوں سے منسلک پائے گئے ان کو نگرانی میں رکھا گیا ہے تاکہ جب ضرورت پڑے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔اس حوالے سے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں 329 مدارس ہیں اور یہ امکان ہے کہ جے یو آئی (ف) کو 207 مدارس سے افرادی قوت سمیت حمایت حاصل ہوجائے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 28 ہزار طلبہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمٰن، مولانا عطاالرحمٰن، مفتی ابرار، خواجہ مدثر اور مجید ہزاروی کی بھی نگرانی شروع کردی گئی اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن کے اسٹاف میمبر کو بھی مانیٹر کیا جارہا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ رینٹ اے کار سروس فراہم کرنے والے، ہوٹلز اور کیٹرنگ سروسز کی بھی نگرانی شروع کردی گئی ہے اور دیکھا جارہا کہ کون لوگ وہاں آرہے ہیں۔دوسری جانب مینٹینینس آف پبلک آرڈر یا کرمنل پراسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کو جے یو آئی (ف) کے رہنماو¿ں، اساتذہ اور طلبہ کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ انہیں لانگ مارچ میں شرکت کے لیے تیاریوں سے روکا جاسکے۔اس کے علاوہ سی آر پی سی کو لانگ مارچ کے منتظمین، قائدین اور شرکا کو سروس فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا۔ادھر ایک پولیس افسر نے کہا دارالحکومت کی پولیس نے اپنی نئی تیار کردہ حکمت عملی کو جانچنے کے لیے بڑی انسداد فسادات مشق شروع کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ مشق جے یو آئی (ف) کی جانب سے 27 اکتوبر سے حکومت مخالف آزادی مارچ کے آغاز کے اعلان کے بعد سے شروع کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جے یوآئی نے آزادی مارچ کیلئے باضابطہ درخواست دے دی

بدھ اکتوبر 9 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد(بیورورپورٹ)جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں ڈی چوک کے مقام پر ‘آزادی مارچ’ کے انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو باضابہ طور پر درخواست دے دی۔جے یو آئی (ف) کے رہنما سینیٹر […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔