اسرائیل کے حملے میں مزید 2 فلسطینی جاں بحق، تعداد 16 ہوگئی

0

غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے میں مزید 2 فلسطینی جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے حالیہ فضائی حملے جس میں ان کے مطابق ایک ‘فلسطینی جنگجو کمانڈر’ ہلاک ہوا تھا، کے بعد سے اسرائیلی سرزمین پر غزہ سے اب تک 250 کے قریب راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ سرحد سے متصل اسرائیلی زمین پر راکٹ حملوں کی وجہ سے اسکول بند کردیے گئے جبکہ عوامی اجتماع پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مشرقی غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں بھاء ابو العطا اور ان کی اہلیہ جاں بحق ہوئی تھیں جن کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل پر ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

رات کی تاریکی میں ہونے والا حملہ بھاء ابو العطا کی رہائش گاہ پر اس وقت کیا گیا تھا جب وہ سو رہے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے چلنے والے راکٹ تل ابیب تک پہنچے ہیں جن کی وجہ سے 2 افراد زخمی بھی ہوئے۔

غزہ اور اسرائیل میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مصری حکام کا کہنا تھا کہ قاہرہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاہم فلسطینی تنظیم کے ترجمان نے ان کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہماری ترجیح اسرائیلی جرائم کا جواب دینے اور جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے’۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ مزید کشیدگی نہیں چاہتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیل کے لیے خطرہ بننے والے مزید لوگوں کو مارنے سے کترائیں گے نہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج ہم نے اپنے تمام دشمنوں کو واضح پیغام دے دیا ہے، جو بھی ہمیں دن میں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا وہ رات تک باقی نہیں رہ پائے گا’۔

راکٹ حملوں کی وجہ سے اسرائیل میں کسی کی ہلاکت سامنے نہیں آئی جس کی وجہ اسرائیل کا آئرن ڈوم دفاعی نظام ہے جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ‘اس نئے سسٹم کے ذریعے 90 فیصد راکٹوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا’۔

گزشتہ روز غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے کے ساتھ ساتھ شام کی دارالحکومت دمشق میں بھی اسرائیل نے ایک گھر پر 3 فضائی حملے کیے تھے جن میں سے ایک کو ناکام بنا دیا گیا تھا اور 2 نے گھر کو تباہ کردیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.