استعفے کی شرط پر مذاکرات نہیں ہوں گے،عمران خان

0

اسلام آباد(شاکر رحمان سے)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں،میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا،تفصیلات کے مطابق وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپوزیشن کےساتھ ہونےوالی بات چیت سے آگاہ کیا،چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان کوفضل الرحمن سے ہونےوالی5ملاقاتوں کی تفصیلات پر بریفنگ دی اورمذاکرات کے تعطل کی وجوہات سے آگاہ کیاعلاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ اور بابر اعوان بھی شریک ہوئے، وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو حکومتی حکمت عملی اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا،ملاقات کے دوران حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم کو کہااحتجاج جمہوری حق ہے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، خطرہ ہوتا تو دھرنے والوں کو اسلام آباد نہ آنے دیا جاتا،ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا استعفے کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، بار بار استعفے کی بات ہو رہی ہے اگر استعفیٰ ہی شرط ہے تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں،وزیراعظم عمران خان نے کہا کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی لیکن اگر شرط صرف استعفے کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے،وزیراعظم نے کہا معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں ،و زیر اعظم عمران خان نے واضح کیا استعفیٰ کسی صورت نہیں دونگا ،جوڈیشل کمیشن کے ذریعے دھاندلی کی تحقیقات کرانے کو تیار ہوں، منظم دھاندلی ثابت ہو جائے تو خود عہدہ چھوڑ دوں گا،ہمارے دھرنے اور موجودہ دھرنے میں فرق ہے، بغیر دھاندلی کے ثبوت چند ہزار لوگ لا کر استعفے کی روایت نہیں ڈالنی چاہیے، ہم نے دھاندلی پر شواہد دئیے، بات نہ سنی جانے پر دھرنا دیا،ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کمیٹی کو اعجاز شاہ اور بابر اعوان کےساتھ مزید مشاورت کی ہدایت کردی،دریں اثناءوزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاآزادی مارچ سے متعلق معاملات مذاکراتی کمیٹی دیکھ رہی ہے، مذاکرات کے دوران سخت بیانات دینے سے گریز کریں، انتخابی دھاندلی پر عدالتی کمیشن بنا لیں یا پارلیمانی ہم تیار ہیں، ہم نے 4 حلقے کھولنے کا کہا تھا ہم سارے حلقے کھولنے کو تیار ہیں، مولانا نے کہاانہیں لاشیں چاہئیں، جمہوری لوگ ہیں لاشیں نہیں دیں گے، افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائےگی،وزیراعظم نے کہاملکی معیشت میں استحکام آچکا اب اپنے منشور پر مکمل عملدرآمد کی جانب بڑھ رہے ہیں،کمیٹی ارکان مذاکرات کے دوران سخت بیانات دینے سے گریز کریں،،علاوہ ازیںوزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا، متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی،اجلاس میں سرحدی علاقوں میں ٹریڈ مارکیٹس کے قیام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم کو مغربی سرحدوں پر سمگلنگ کی روک تھام کےلئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اور سرحدی علاقوں کے عوام کو روزگار کے متبادل ذرائع کا لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا،اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہاسمگلنگ کا ناسور ملکی معیشت کےلئے زہر قاتل ہے، سمگلنگ ملکی وسائل آمدنی کو متاثر کرتی ہے، صنعت کی تباہی کا باعث ہے، سرحدی علاقوں کے عوام خصوصاً نوجوانوں کی معاشی مشکلات کا احساس ہے،عوام کو روزگار کی فراہمی کےلئے ٹریڈ مارکیٹس کے قیام کی تجویز قابل تحسین ہے، کے پی، بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ٹریڈ مارکیٹس کے قیام کا جلد آغاز کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.