استعفیٰ نہیں ملے گا،وزیراعظم

اسلام آباد (شاکر رحمان سے)استعفے کا مطالبہ مسترد ، کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،وزیراعظم عمران خان نے آزادی مارچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں وزارت داخلہ کو تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے حکومت نے معاہدہ کر کے اپوزیشن کوجمہوری حق دیا اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا،تفصیلات کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر ہوا اجلاس میں آزادی مارچ سے متعلق مذاکرات کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی،اجلاس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر کے اپوزیشن کے مطالبات پربریفنگ دی،مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا اپوزیشن کےساتھ حکومت نے معاہدہ کر کے جمہوری حق دیا تاہم اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا،کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے اور اپوزیشن کے غیر جمہوری و غیر آئینی مطالبات تسلیم نہیں کر سکتے،عمران خان نے حکومتی کمیٹی کو رہبر کمیٹی سے بات چیت جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ملاقات کے بعد آگاہ کیا جائے اپوزیشن کونسا جمہوری حق مانگ رہی ہے،ذرائع کے مطابق اجلاس میںفیصلہ کیا گیا آئین و قانون کے مطابق اپوزیشن کے جائز مطالبات ماننے کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم نے اپوزیشن کی طرف سے استعفے کے مطالبے کو حماقت قرار دیتے ہوئے حکومتی کمیٹی کو ہدایت کی اپوزیشن نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں،وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کسی بھی ناخوشگوار واقعے پرفوری کارروائی کی جائے،علاوہ ازیںبنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آزادی مارچ سے نمٹنے کےلئے لائحہ عمل طے کیا گیا،حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے اجلاس کے دوران کور کمیٹی کو اپوزیشن کے ساتھ رابطوں سے متعلق آگاہ کیا،اجلاس کے دوران اہم فیصلے کیے گئے،کور کمیٹی نے فیصلہ کیا نہ تو وزیراعظم عمران خان مستعفی ہوں گے اور نہ ہی ملک میں نئے انتخابات ہوں گے جبکہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنےوالے شرپسندوں سے سختی کےساتھ نمٹا جائےگا،کور کمیٹی نے کہا آزادی مارچ کے شرکاءجب تک چاہیں بیٹھے رہیں لیکن اگر انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا، کور کمیٹی نے افواج پاکستان کےخلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا سلامتی کے اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائےگی، سیاسی و جمہوری جماعتیں آئین سے بغاوت کرتی ہیں اور نہ ہی اس کا درس دیتی ہیں، وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا بیان شرمناک ،قابل مذمت ہے،ارکان نے فیصلہ کیا اپوزیشن کا کوئی بھی غیرآئینی مطالبہ قبول نہیں کیا جائیگا، اپوزیشن کا احتجاج احتساب کا عمل روکنے کی کوشش ہے، اپوزیشن کا آئینی حق تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت دی،آزادی مارچ کے شرکاءجہاں بیٹھے ہیں وہیں رہیں گے تو حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا،کور کمیٹی کے ارکان نے مزید کہاپاک فوج نے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ملک میں امن نہ ہوتا،قومی سلامتی اور دفاع کےساتھ جڑے قومی ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے گا، اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ادارے پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے ضامن ہیں، اداروں کی لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان آگے بڑھا،اجلاس کے دوران ارکان نے کہاوزیراعظم عمران خان پاکستان کا درخشاں اور روشن چہرہ ہےں، وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کا بیان شرمناک اور قابل مذمت ہے، وزیراعظم قوم کے وہ ہیرو ہیں جو اپنے نہیں قوم کے بچوں کے بہتر مستقبل کےلئے کوشاں ہیں، پاکستان کو آج دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، عمران خان کی انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،پی ٹی آئی کور کمیٹی کے ارکان نے مزید کہاسیاسی و جمہوری حکومتیں آئین سے بغاوت کرتی ہیں اور نہ عوام کے ہجوم میں بغاوت کا درس دیتی ہیں،اجلاس کے دوران سیاسی بیانیہ بہترانداز میں پیش کرنے پر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی تعریف بھی کی گئی،اجلاس میں کور کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا اپوزیشن کے اوچھے ہتھکنڈوں میں نہیں آئیں گے، اپوزیشن جب تک چاہے دھرنا دے، بلیک میل نہیں ہوں گے،وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا استعفے کا مطالبہ احمقانہ ہے، اپوزیشن کا کوئی بھی غیر جمہوری مطالبہ تسلیم نہیں کر سکتے اگر اپوزیشن نے بلیک میلنگ کی تو مذاکرات نہیں کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

فضل الرحمن کیخلاف عدالت جائیں گے،حکومت کااعلان

ہفتہ نومبر 2 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد(زاہد احمد خان سے )حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویزخٹک نے کہا ہے وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کا بیان بغاوت ہے ،فضل الرحمن کےخلاف عدالت جائیں گے،وزیراعظم کے استعفے پر کوئی بات نہیں ہوگی، اس بارے میں سوچیں […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔