آخری ٹی20میچ،گرین شرٹ کےلئے سیریز برابر کرنے کےلئے پرامید

پرتھ(مشرق نیوز) اعتماد سے عاری پاکستان سیریز بچانے کیلیے پریشان ہے تاہم تیسرا ٹی ٹوئنٹی آج پرتھ میں کھیلا جائے گا۔سری لنکا کی نوآموز ٹیم کی ہاتھوں ہوم ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سوئپ ہونے والی پاکستان ٹیم نئے کپتان بابر اعظم اور نئے کمبی نیشن کیساتھ آسٹریلیا پہنچی، کنڈیشنز سے ہم آہنگی کا مناسب وقت ملنے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا الیون کیخلاف بھی گرین شرٹس نے بہتربولنگ کا مظاہرہ کیا، ٹاپ آرڈر نے بھی ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح آسان بنائی لیکن انٹرنیشنل میچز کا سلسلہ شروع ہوتے ہی مہمان ٹیم کی تیاریوں اور ناقص حکمت عملی کی قلعی کھلنا شروع ہوگئی۔سڈنی میں پہلا ٹی ٹوئنٹی 15،15اوورز تک محدود ہونے کے بعد پاکستان نے گرتے پڑتے 107کا مجموعہ ہی حاصل کیا،کینگروز کو یہ ہدف حاصل کرنے میں قطعی دشواری نہ ہوتی لیکن بارش گرین شرٹس کی مدد کو آگئی،صرف11گیندیں مزید پھینکی جاتیں تو پاکستان ٹیم کو شکست ہوجاتی،کینبرا میں پچ مہمانوں کیلیے خاصی سازگار تھی لیکن ٹاپ آرڈر نے بابر اعظم کا ساتھ نہ دیا، آخر میں افتخار احمد جارحانہ اننگز نہ کھیلتے تو 150کا مجموعہ پاناممکن نہ ہوتا، اسٹیون اسمتھ کی شاندار بیٹنگ نے اس ہدف کو معمولی بناکر رکھ دیا۔ پرتھ میں کنڈیشنز پاکستان کے اعتماد سے عاری بیٹنگ کیلیے سازگار نہیں ہوں گی، یہاں بنائے جانے والے نئے اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے گزشتہ دونوں ون ڈے میچز میں پیسرز چھائے رہے ہیں، مہمان ٹیم کی بیٹنگ کو استحکام دینے کیلیے آو¿ٹ آف فارم فخرزمان اور آصف علی کی جگہ امام الحق اور خوشدل شاہ کو آزمائے جانے کا امکان ہے۔بیٹنگ کا بوجھ اٹھانے کیلیے گزشتہ دونوں میچز میں ففٹیز بنانے والے بابر اعظم ایک بار پھر امیدوں کا مرکز ہوں گے، افتخار احمد کی گزشتہ میچ میں اچھی اننگز بھی پاکستان کیلیے حوصلہ افزا ہے، پیس بیٹری میں محمد عرفان کو باہر بٹھا کر 19سالہ محمد موسٰی کو موقع دیا جاسکتا ہے، عماد وسیم اور شاداب خان کی بولنگ فارم ٹیم کے مسائل میں اضافہ کررہی ہے جبکہ عثمان قادر ابھی تک سیر سپاٹے میں ہی مصروف ہیں۔دوسری جانب آسٹریلیا کو کپتان ایرون فنچ، ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ سمیت جارح مزاج بیٹسمینوں کی خدمات حاصل ہیں، خطرناک پیسر پیٹ کمنز کو آرام دینے کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا گیا تھا، ان کی جگہ 5سال سے کوئی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کے منتظر سین ایبٹ کو شامل کیا جاسکتا ہے۔جمعرات کو پاکستان ٹیم نے بھرپور پریکٹس سیشن میں آخری معرکہ سر کرنے کیلیے تیاریوں کا سلسلہ جاری رکھا، وارم اپ کے بعد فیلڈنگ ڈرلز کی گئیں، کھلاڑیوں نے مشکل کیچز تھامنے کی مشق جاری رکھی، بولنگ کوچ وقار یونس نے محمد موسٰی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انھیں لائن اور لینتھ بہتر بنانے کیلیے مشورے دیئے، محمد عامر، وہاب ریاض اور محمد عرفان بھی ایکشن میں نظر آئے، اسپنرز نے الگ نیٹ میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کیا۔ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق نے خود بھی تھرو بولنگ کرتے ہوئے بیٹسمینوں کو پریکٹس کروائی، بابر اعظم اور امام الحق نے نئی گیند کا سامنا کیا، فخرزمان جارحانہ کے بجائے دفاعی اسٹروکس زیادہ کھیلتے نظر آئے، حارث سہیل اور خوشدل شاہ نے بھی طویل سیشن کیا، مصباح الحق نے دونوں کو فٹ ورک بہتر بنانے کیلیے مشورے دیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بابر اعظم رنز اسکور کرتے ہوئے قیادت کا حق ادا کررہے ہیں،وہاب ریاض

جمعہ نومبر 8 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email پرتھ(مشرق نیوز) وہاب ریاض نے بابر اعظم کے گن گانا شروع کردیے۔پرتھ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیسر نے کہا کہ سرفراز احمد ایک اچھے کرکٹرہیں وہ بہترین انداز میں قومی ٹیم کی قیادت کرتے رہے، انھوں نے پاکستان […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔