، وزیراعلی بلوچستان بے اختیار ہیں: 27اکتوبر کو ہر صورت آزادی مارچ ہوگا: مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(سٹی رپورٹر)جمعیت علما ءاسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ 27اکتوبر کو ہر صورت آزادی مارچ ہوگااور ہمارے ساتھ تمام سیاسی و جمہوری جماعتیں ہونگی ،جعلی انتخابات کی صورت میں منتخب ہونے والی حکومت کو جانا پڑیگا، فوج عوام کے سامنے نہیں آئیگی ،ہمیں نہ کوئی ہدایت ملی ہے نہ امپا ئر کی انگلی اٹھنے کا انتظار ہے ،حکومت نے اگر مارچ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ہمارے پاس متبادل پلان موجود ہے، وزیراعلی بلوچستان بے اختےار ہیں انہوں نے ڈارھی کی بدنامی کی ہے، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا جانا ٹھن چکا ہے یہ بات انہوں نے پیر کو جمعیت علماءاسلام کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر جمعیت علماءاسلام کے صوبائی سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی آغامحمود شاہ ،رکن قومی اسمبلی مولوی کمال الدین ،اراکین صوبائی اسمبلی اصغر ترین ،حاجی نواز کاکڑ ،سابق صوبائی وزیر حافظ خلیل احمد، جمعیت علماءاسلام کے ضلعی صدر عبدالرحمن رفیق سمیت دےگر بھی موجود تھے، مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام نے پاکستان کی بقاء،جمہوریت اور ملکی سالمیت کے لئے 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ 25جولائی 2018کو جعلی انتخابات ہوئے تھے جن کی نتےجے میں دھاندلی زدہ حکومت قائم ہوئی تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اب حکومت کو مزید وقت دینا جمہویت اور پاکستان کے ساتھ ظلم ہے تمام جماعتیں متفق ہیں کہ اگر اس حکومت کا خاتمہ نہیں کیا گیا تو ہم عوام کو کیا جواب دیں گے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءاسلا م نے ایک سال کے دوران 15ملین مارچ کئے اور حکومت کی کمزوریاں عوام کے سامنے رکھیں عوام نے جمعےت علماءاسلام کے موقف کی تائید کی جس کے بعد ہم نے حکومت کو مستعفی ہونے کے لئے دوماہ کی مہلت دی جس کے پورے ہونے کے بعد اب ہم آزادی مارچ کرنے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جا تاہے کہ ہم مذہبی کارڈ استعمال کر رہے ہیں یہ کارڈ سب سے پہلے قائد اعظم نے استعمال کیا تھا کیا انہیں قبر سے نکال کر انکا ٹرائل ہوگا آئین پاکستان میں پاکستان مسلم ملک ہے کیا ہم آئین کو تسلیم نہیں کرتے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں 27اکتوبر کے مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ہے جمعیت علما ءاسلام کل سے صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطوں کا آغاز کرےگی مارچ کے حوالے سے ہر عمومی رکن سے 250روپے، تحصیل رکن سے 1ہزار روپے ، ضلعی رکن سے 2ہزار روپے چندہ اکھٹا کیا جائےگا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں پشتونخواءملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی نے حمایت اورساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے جوں جوں آزادی مارچ کی تاریخ قریب آرہی ہے حکومت کی آہ و پکار بڑھ رہی ہے ہم نے مارچ کی تاریخ اکتوبر کے آخر میں سیاسی جماعتوں کی خواہش پر رکھی جو جماعت مارچ میں شرکت کرنا چاہتی اور دھرنے میں نہیں آنا چاہتی وہ انکی اپنی رائے ہے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ،ہم ریاستی اداروں کے لوگوں ، سول سائٹی سمیت تمام مکاتب فکر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور مارچ میں شرکت کریںانہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی مذہبی اور جغرفیائی سرحدوںکی پامالی کی ہے، حکومت نے ناموس رسالت اور ختم نبوت کے قوانین کو ختم کرنے کی کوشش کی، 70سال سے پاکستانی قوم نے کشمیر کو اپنی شہ رگ مانا ہے اور اسکی آزادی کی جدوجہد کی ہے جبکہ حکومت نے کشمیر کے معاملے پر سرینڈر کر دیا، پاکستان قوم نے اپنا 75فیصد بجٹ دفاع میں صرف اس لئے خرچ کیا تا کہ کشمیر پاکستان بن سکے اور ہماری سرحدیں محفوظ ہوں ہم نے کشمیر کے لئے اسلحہ، ایٹم بم ،میزائل تیار کئے اور مطمئن تھے کے ہمارا دفاع مضبوط ہے لیکن وزیراعظم نے امریکہ کے دورے پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کشمیر پر فیصلے کرنے کا اختیار سونپ دیا وزیراعظم نے اس معاملے پر 22کروڑ عوا م کی نمائندہ پارلیمنٹ کی رائے تک لینا گوارا نہیں کی اور امریکی صدر کے سامنے گھٹنے ٹیک دئےے جبکہ بھارتی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ انہوں نے کشمیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار کسی کو نہیں دیا کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ساتھ ہی بھارت نے آرٹیکل 370اور 35اے کو بھی ختم کیا اس کے رد عمل میں حکمرانوں نے ڈرامائی انداز میں آدھا گھنٹا سکو ل کے بچوں کو کھڑا کر کے احتجاج کیا انہوں نے کہا کہ بھارت نے فاٹا کی طرز پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا وزیراعظم نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ہے انہوں نے پوری دنیا کے سامنے اعتراف کیا کہ پاکستان دہشتگردتنظیموں کا سرچشمہ ہے اور ہم نے ان تنظیموں کو بنایا اس اعتراف سے بھارت کے اس موقف کی تائید ملی جسکی پاکستان کئی دہاہیوں سے تردید کرتا آیا ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر ڈی چوک پر کی جانے والی تقاریر سے یکسر مختلف نہ تھی انہوں نے عالمی سطح پر کھڑا ہو کر کہا کہ ہم بھارت سے ایٹمی جنگ کر سکتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر نے پر پابندی ہے اب یہودی ایجنٹ ہمارے ایٹمی پروگرام کو بھی داﺅ پر لگانا چاہتے ہیں اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کر نے کی سازش شروع کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ایک سال میں حکومت نے 600فیصد مہنگائی ،ڈالر کو 160روپے کی سطح پر لا کر عوام کی کمر توڑ دی ہے اب عوام مزید اس حکومت کو برداشت نہیں کرسکتی انہوں نے کہا کہ ہم فوج پر کشمیر کے حوالے سے اعتماد کرتے ہیں لیکن ہمارا ان سے بھی ایک سوا ل ہے کہ آخر وہ کب تک اس حکومت کو برادشت کریں گے اگر یہودی ایجنٹ کو ختم نہ کیا گیا تو کشمیر کے لئے لڑنے کی نوبت تک نہیں آئیگی فوج اگر عوام کے سامنے آئےگی اس سے حالات مزید خراب ہونگے ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے حلقے سے جب 53ہزار ووٹ جعلی نکلے ہیں تو صوبے کے دور دراز علاقوں میں کیا ہوا ہوگا حکومت کو آزادی مارچ میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہےے اگر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ہمارے پاس متبادل حکمت عملی موجود ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کسی نے ہدایت کی نہ ہی ہم امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کریں گے دنیا کی کوئی بھی عدالت ہمیں جمہوری احتجاج کے حق سے روک نہیں سکتی ہم عدلیہ کو آزاد کروائیں گے تاکہ آئندہ کسی بھی جج کی ویڈیو لیک نہ ہوسکے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے وزیراعلیٰ جام کمال نے ڈراھی کی بدنامی اور توہین کی ہے وزیراعلیٰ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں ناکام ہیں صوبے کا ترقیاتی عمل بند پڑا ہے وزیراعلیٰ بے اختیار ہیں وہ وٹس ایپ پر حکومت چلا رہے ہیں آزادی مارچ کے سامنے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹک نہیں سکیں گی27اکتوبر کو تمام سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ ہونگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی : صوبائی وزیر داخلہ

منگل اکتوبر 8 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email کو ئٹہ :صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے دکی میں فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔