ٹوگل مینو

اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب (القرآن)

تازہ ترین خبریں

مزید خبریں

قومی

خبریں پاکستان سے

کوئٹہ میں سیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں 3 دہشت گرد ہلاک

out of 5کوئٹہ(مشرق نیوز)سریاب روڈ پر دہشت گردوں سے مقابلے میں 3 دہشت گرد ہلاک جب کہ 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔ ایکسپریس نیوز کےمطابق سریاب روڈ پر سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا تاہم اس دوران فورسز کی جوابی فائرنگ میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ اس دوران 2 سیکیورٹی اہلکاروں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ذرائع کےمطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے جن کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا ہے جب کہ دہشت گردوں کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔Rating:کوئٹہ(مشرق نیوز)سریاب روڈ پر دہشت گردوں سے مقابلے میں 3 دہشت گرد ہلاک جب کہ 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔ ایکسپریس نیوز کےمطابق سریاب روڈ پر سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا تاہم اس دوران فورسز کی جوابی فائرنگ میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ اس دوران 2 سیکیورٹی اہلکاروں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ذرائع کےمطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے جن کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا ہے جب کہ دہشت گردوں کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ out of 5 stars

کوئٹہ میں سیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں 3 دہشت گرد ہلاک

مزید پڑھیں

قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے كی فكر مجھ سے زیادہ كسے ہوگی، وزیراعظم

out of 5اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ قوم سے کیے گئے وعدے ہر صورت پورے كریں گے اور قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے كی فكر مجھ سے زیادہ كسے ہوگی۔ وزیراعظم نوازشریف نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ کا دوہ کیا اس موقع وزیراعظم آزاد كشمیر راجہ فاروق حیدر، وفاقی وزرا اسحاق ڈار، خواجہ آصف، پرویز رشید، برجیس طاہر اور آصف كرمانی بھی وزیراعظم كے ہمراہ تھے، چیئرمین واپڈا نے وزیراعظم كو منصوبے كی ابتدا سے لے كر اب تك كام كی پیشرفت پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے چیرمین واپڈا کو كام كی بروقت تكمیل كو یقینی بنانے كی ہدایت دیتے ہوئے كہا کہ قوم سے كیے گئے وعدے ہر صورت پورے كریں گے، قوم كو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے كی فكر مجھ سے زیادہ كسے ہوگی، قوم سے كیے وعدے پورے كرنے میں كوئی ركاوٹ نہیں آنے دیں گے، اپنی حكومت میں لوڈ شیڈنگ كے مكمل خاتمے کے لیے كوشاں ہیں۔ وزیراعظم نے كہا كہ موجودہ حكومت بجلی كے تمام منصوبوں كو شیڈول كے مطابق مكمل كرنے كے لیے پرعزم ہے تا كہ ملك كو بجلی كی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل ہو اور صنعتی پیداوار كو فروغ ملے۔Rating:اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ قوم سے کیے گئے وعدے ہر صورت پورے كریں گے اور قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے كی فكر مجھ سے زیادہ كسے ہوگی۔ وزیراعظم نوازشریف نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ کا دوہ کیا اس موقع وزیراعظم آزاد كشمیر راجہ فاروق حیدر، وفاقی وزرا اسحاق ڈار، خواجہ آصف، پرویز رشید، برجیس طاہر اور آصف كرمانی بھی وزیراعظم كے ہمراہ تھے، چیئرمین واپڈا نے وزیراعظم كو منصوبے كی ابتدا سے لے كر اب تك كام كی پیشرفت پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے چیرمین واپڈا کو كام كی بروقت تكمیل كو یقینی بنانے كی ہدایت دیتے ہوئے كہا کہ قوم سے كیے گئے وعدے ہر صورت پورے كریں گے، قوم كو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے كی فكر مجھ سے زیادہ كسے ہوگی، قوم سے كیے وعدے پورے كرنے میں كوئی ركاوٹ نہیں آنے دیں گے، اپنی حكومت میں لوڈ شیڈنگ كے مكمل خاتمے کے لیے كوشاں ہیں۔ وزیراعظم نے كہا كہ موجودہ حكومت بجلی كے تمام منصوبوں كو شیڈول كے مطابق مكمل كرنے كے لیے پرعزم ہے تا كہ ملك كو بجلی كی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل ہو اور صنعتی پیداوار كو فروغ ملے۔ out of 5 stars

قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے كی فكر مجھ سے زیادہ كسے ہوگی، وزیراعظم

مزید پڑھیں

امن و امان کی خراب صورتحال کے ذمہ دار چوہدری نثار ہیں‘

out of 5اسلام آباد(مشرق نیوز)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کے اصل ذمہ دار وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ہیں، جو اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے، لوگ مر رہے ہیں اور وزیر داخلہ الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کے اصل ذمہ دار چوہدری نثار ہیں، ملک میں امن و امان کا قیام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا وزیر داخلہ کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن وہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: خورشید شاہ حکومت کے بجائے میرے خلاف ہیں،چوہدری نثار خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار اس طرح کی پریس کانفرنسز اور الزام تراشیاں کرکے قوم کو بیوقوف نہیں بنا سکتے، ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ ذمہ داری قبول کریں اور نہ ہی ان میں اتنی غیرت ہے کہ اپنی وزارت سے مستعفی ہوجائیں، جبکہ میں وزیر داخلہ ہوتا ہے تو کب کا استعفیٰ دے چکا ہوتا۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ وہ پیر کو پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کے الزامات کا تفصیلی جواب دیں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’کچھ لوگ اسمبلی میں پوائنٹ اسکورنگ اور تماشا لگانا چاہتے تھے، اسمبلی میں صرف وزیر اعظم کو متاثر کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ حکومت کے بجائے میرے خلاف ہیں اور ایک ایسا ٹولہ ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈال دیتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے میری بات ناگوار گزری، لیکن سیکیورٹی اداروں پر تنقید کا جواب دینا میری ذمہ داری ہے۔Rating:اسلام آباد(مشرق نیوز)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کے اصل ذمہ دار وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ہیں، جو اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے، لوگ مر رہے ہیں اور وزیر داخلہ الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کے اصل ذمہ دار چوہدری نثار ہیں، ملک میں امن و امان کا قیام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا وزیر داخلہ کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن وہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: خورشید شاہ حکومت کے بجائے میرے خلاف ہیں،چوہدری نثار خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار اس طرح کی پریس کانفرنسز اور الزام تراشیاں کرکے قوم کو بیوقوف نہیں بنا سکتے، ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ ذمہ داری قبول کریں اور نہ ہی ان میں اتنی غیرت ہے کہ اپنی وزارت سے مستعفی ہوجائیں، جبکہ میں وزیر داخلہ ہوتا ہے تو کب کا استعفیٰ دے چکا ہوتا۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ وہ پیر کو پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کے الزامات کا تفصیلی جواب دیں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’کچھ لوگ اسمبلی میں پوائنٹ اسکورنگ اور تماشا لگانا چاہتے تھے، اسمبلی میں صرف وزیر اعظم کو متاثر کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ حکومت کے بجائے میرے خلاف ہیں اور ایک ایسا ٹولہ ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈال دیتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے میری بات ناگوار گزری، لیکن سیکیورٹی اداروں پر تنقید کا جواب دینا میری ذمہ داری ہے۔ out of 5 stars

امن و امان کی خراب صورتحال کے ذمہ دار چوہدری نثار ہیں‘

مزید پڑھیں

بعض حلقوں کے غیر مناسب بیانات اور تجزیئے قومی کاز کو نقصان پہنچارہے ہیں، آرمی چیف

out of 5راولپنڈی: آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہےکہ بعض حلقوں کی جانب سے غیر مناسب بیانات اور تجزیئے قومی کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں جب کہ اس طرح کے اکسانے والے ریمارکس قومی کوششوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں جی ایچ کیو میں اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس ہوا جس میں پرنسپل اسٹاف آفیسرز، ڈی جی آئی ایس پی آر اور کور کمانڈر راولپنڈی نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر پیشرفت سے متعلق جائزہ لیا گیا۔ اس خبر کو بھی پڑھیں: سانحہ کوئٹہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، محمود خان اچکزئی آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس سے خطاب میں جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر پیشرفت نہ ہونے سے آپریشن ضرب عضب متاثر ہوا، ایکشن پلان پر عمل نہ کیا گیا تو دہشت گردی جاری رہے گی کیونکہ ایکشن پلان ہمارے مقاصد کے حصول کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جو اب اختتام کے قریب ہے، پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم پاک سرزمین سے دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ خامیوں کو دور کیے بغیر دیرپا امن و استحکام کا خواب پورا نہیں ہوگا، تمام ادارے بھرپور تعاون کرکے شدت پسندی کا خاتمہ یقینی بنائیں، فورسز کی انتھک کوششیں اورقربانیاں امن و استحکام لائیں گی۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بہتر سیکیورٹی کے مثبت اثرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے جس کے لیے عوام، فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے غیر مناسب بیانات اور تجزیئے قومی کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس طرح کے اکسانے والے ریمارکس قومی کوششوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں کو کامیاب کرنے کے لیے مربوط قومی رد عمل کی ضرورت ہے جب کہ فریقین کی طرف سے بامعنی اور مناسب اقدامات نہ ہونے سے امن قائم نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ سانحہ کوئٹہ پر گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے سیکیورٹی اداروں پر شدید تنقید کی تھی جس میں انہوں نے سانحہ کوئٹہ کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے ان اداروں کے سربراہان کو فارغ کرنے کا کہا تھا۔Rating:راولپنڈی: آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا ہےکہ بعض حلقوں کی جانب سے غیر مناسب بیانات اور تجزیئے قومی کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں جب کہ اس طرح کے اکسانے والے ریمارکس قومی کوششوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں جی ایچ کیو میں اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس ہوا جس میں پرنسپل اسٹاف آفیسرز، ڈی جی آئی ایس پی آر اور کور کمانڈر راولپنڈی نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر پیشرفت سے متعلق جائزہ لیا گیا۔ اس خبر کو بھی پڑھیں: سانحہ کوئٹہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، محمود خان اچکزئی آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس سے خطاب میں جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر پیشرفت نہ ہونے سے آپریشن ضرب عضب متاثر ہوا، ایکشن پلان پر عمل نہ کیا گیا تو دہشت گردی جاری رہے گی کیونکہ ایکشن پلان ہمارے مقاصد کے حصول کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جو اب اختتام کے قریب ہے، پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم پاک سرزمین سے دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ خامیوں کو دور کیے بغیر دیرپا امن و استحکام کا خواب پورا نہیں ہوگا، تمام ادارے بھرپور تعاون کرکے شدت پسندی کا خاتمہ یقینی بنائیں، فورسز کی انتھک کوششیں اورقربانیاں امن و استحکام لائیں گی۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بہتر سیکیورٹی کے مثبت اثرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے جس کے لیے عوام، فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے غیر مناسب بیانات اور تجزیئے قومی کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس طرح کے اکسانے والے ریمارکس قومی کوششوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں کو کامیاب کرنے کے لیے مربوط قومی رد عمل کی ضرورت ہے جب کہ فریقین کی طرف سے بامعنی اور مناسب اقدامات نہ ہونے سے امن قائم نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ سانحہ کوئٹہ پر گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے سیکیورٹی اداروں پر شدید تنقید کی تھی جس میں انہوں نے سانحہ کوئٹہ کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے ان اداروں کے سربراہان کو فارغ کرنے کا کہا تھا۔ out of 5 stars

بعض حلقوں کے غیر مناسب بیانات اور تجزیئے قومی کاز کو نقصان پہنچارہے ہیں، آرمی چیف

مزید پڑھیں

بھارت نے پاکستان کے خلاف غیر رسمی جنگ کا آغاز کردیا ہے، کمانڈر سدرن کمانڈ

out of 5کوئٹہ(مشرق نیوز)کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان کے خلاف غیر رسمی اعلان جنگ ہے۔ کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ بہت بڑا نقصان ہے اور اس پر مجھ سمیت پوری قوم کو دکھ اورافسوس ہے تاہم دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی اور پاکستان کے خلاف اندراورباہر دونوں اطراف سے سازشیں ہو رہی ہیں اس لئے اپنے اختلافات بھلا کر یکجا ہونا ہو گا۔ اس خبر کو بھی پڑھیں: دشمن کا ہرحربہ ناکام ہوگا اور وہ شکست کھا رہا ہے کمانڈر سدرن کمانڈ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف غیر رسمی جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں قیام امن کے لئے مجھے آپ کی اور آپ کو میری طاقت بننا ہے۔Rating:کوئٹہ(مشرق نیوز)کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان کے خلاف غیر رسمی اعلان جنگ ہے۔ کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ بہت بڑا نقصان ہے اور اس پر مجھ سمیت پوری قوم کو دکھ اورافسوس ہے تاہم دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی اور پاکستان کے خلاف اندراورباہر دونوں اطراف سے سازشیں ہو رہی ہیں اس لئے اپنے اختلافات بھلا کر یکجا ہونا ہو گا۔ اس خبر کو بھی پڑھیں: دشمن کا ہرحربہ ناکام ہوگا اور وہ شکست کھا رہا ہے کمانڈر سدرن کمانڈ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف غیر رسمی جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں قیام امن کے لئے مجھے آپ کی اور آپ کو میری طاقت بننا ہے۔ out of 5 stars

بھارت نے پاکستان کے خلاف غیر رسمی جنگ کا آغاز کردیا ہے، کمانڈر سدرن کمانڈ

مزید پڑھیں

بلاول اور ایان کے ٹکٹ ایک ہی اکاؤنٹ سے خریدے جاتے ہیں، چوہدری نثار

out of 5اسلام آباد(مشرق نیوز)وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اورایان علی کے ٹکٹ کے پیسے ایک ہی اکاؤنٹ سے جاتے ہیں جب کہ ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات میں کوئی سنجیدہ نہیں، یہ صرف مخالفین کے خلاف استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے، وزیراعظم کا پاناما لیکس میں نام بھی نہیں لیکن انہوں نے اپنے آپ کو تحقیقات کے لئے پیش کردیا ہے، عمران خان کرپشن کے خلاف نکلے ہیں اور وہ بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے ان سے پوچھ لیں کہ سرے محل اور سوئس بینکوں میں رکھا پیسہ کہاں سے آیا، کیا سرے محل کسی پری اور دیو کا ہے اور کبھی نہیں کہا میٹر ریڈر یہاں تک کیسے پہنچا۔ اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتا ہے لیکن موجودہ اپوزیشن لیڈر میرے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا کہ ایان علی اور ڈاکٹرعاصم کے کیسز واپس لیں توآپ کی اور پیپلز پارٹی کی صلح ہو سکتی ہے،ایان علی 5 کروڑ لے جاتے ہوئے پکڑی گئیں تو کچھ لوگ دفاع میں نکل آئے اور لوگوں کی کھال اتارنے والے ایان علی کی مفت میں پیروی کررہے ہیں، جواب دیا جائے کہ ایان علی کا آصف زرداری سے کیا تعلق ہے۔ چوہدری نثارعلی نے کہا کہ بلاول بھٹوا ورایان علی کے ٹکٹ کے پیسے ایک ہی اکاؤنٹ سے جاتے ہیں جب کہ ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرطرح کے تعاون کے لئے تیار ہوں لیکن کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہم ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں، بیٹھ کرمعاملات حل کریں جس کے لئے 3 آپشنز ہیں اور الزامات لگانے کے بجائے کمیشن بنادیا جائے جس کے لئے میڈیا، جوڈیشل کمیشن اور تیسرا سپریم کورٹ کا فورم ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ سارک کانفرنس میں روایت سے ہٹ کربھارتی وزیرداخلہ کوپریزنٹیشن کی اجازت دی اور وہ میری تقریر کے بعد جواب دے سکتے تھے لیکن انہوں نے جواب دینے کے بجائے راجیا سبھا میں بات کی اور کہا کہ پاکستان سبق سیکھنے کو تیار نہیں، کاش جو بات انہوں نے راجیا سبھا میں کہی وہ یہاں کہتے تومیں انھیں جواب دیتا، سارک کانفرنس میں بولنے پر کچھ لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، میرےموقف پرسب کےبیان آئے مگرایک پارٹی کوسانپ سونگھ گیا، کشمیریوں کوگمراہ کرنیوالی پارٹی کےمنہ سےتعریف کاایک حرف نہیں نکلا، اسی سیاسی جماعت نے مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے۔ چوہدری نثارعلی نے کہا کہ آپ کے گھر میں کوئی مہمان آئے اور وہ تضحیک کرکے جائے آپ گھگو بن کر بیٹھ جائیں یہ کہاں کااحترام ہے، سارک کانفرنس میں میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کررہا تھا، اگر پاکستان کی تضحیک ہو تو جواب دینا میرا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرداخلہ کی پاکستان آمد پر مختلف گروپس کی جانب سےاحتجاج کیا گیا لیکن ہمارے اور ان کے احتجاج میں فرق تھا،خورشید قصوری نے دونوں ممالک کوقریب لانے کے لئے کتاب لکھی تو میزبان کا منہ کالا کیا گیا، شہریارخان، نجم سیٹھی، راحت فتح علی خان کا کیا قصور تھا جوسلوک ان لوگوں کے ساتھ بھارت میں کیا گیا۔ وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں بھارتی وزیرداخلہ کو کھانے کی دعوت نہ پوچھنے پر بھارتی اور مقامی میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ میں نے بھارتی وزیرداخلہ کی مہمان نوازی نہیں کی جس کی وضاحت ضروری ہے، میٹنگ کے دوران کھانے کی دعوت وزارت داخلہ یا میری طرف سے نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے تھا۔ میٹنگ کے دوران 2 گھنٹے کا وقفہ تھا جس کے دوران مجھے وزیراعظم ہاؤس میں اہم میٹنگ میں شرکت کرنا تھی، تاہم یہ تاثر دینا کہ میں نے بھارتی وزیرداخلہ کو نظرانداز کیا یہ درست نہیں، پاکستان نے میزبان ملک کی حیثیت سے تمام پروٹوکول کے فرائض پورے کئے اور یہاں تک کہ مہمانوں کو لانے کے لئے ہیلی کاپٹر کا بھی انتظام کیا گیا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ بلیک لسٹ پر موجود امریکی شہری میتھیو بیرٹ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں وہ جاسوس ثٓابت نہیں ہوا اور آئندہ 2 سے تین روز میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اسے ڈی پورٹ کردیا جائے گا، پاکستان میں امریکی شہری کو چھوڑنے والا گرفتار ہے، جس کے خلاف کارروائی ہوگی اور جس نے غلطی کی نشاندہی کی اس کو تعریفی سند اور ایک لاکھ روپےانعام دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلیک لسٹ پر ہونے کے باوجود میتھیو کو 24 گھنٹے کے اندر ویزا جاری کیا گیا اور اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹر کی غلطی تھی جس کی وجہ سے بلیک لسٹ امریکی شہری کا پتا نہیں چل سکا۔Rating:اسلام آباد(مشرق نیوز)وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اورایان علی کے ٹکٹ کے پیسے ایک ہی اکاؤنٹ سے جاتے ہیں جب کہ ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات میں کوئی سنجیدہ نہیں، یہ صرف مخالفین کے خلاف استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے، وزیراعظم کا پاناما لیکس میں نام بھی نہیں لیکن انہوں نے اپنے آپ کو تحقیقات کے لئے پیش کردیا ہے، عمران خان کرپشن کے خلاف نکلے ہیں اور وہ بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے ان سے پوچھ لیں کہ سرے محل اور سوئس بینکوں میں رکھا پیسہ کہاں سے آیا، کیا سرے محل کسی پری اور دیو کا ہے اور کبھی نہیں کہا میٹر ریڈر یہاں تک کیسے پہنچا۔ اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتا ہے لیکن موجودہ اپوزیشن لیڈر میرے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا کہ ایان علی اور ڈاکٹرعاصم کے کیسز واپس لیں توآپ کی اور پیپلز پارٹی کی صلح ہو سکتی ہے،ایان علی 5 کروڑ لے جاتے ہوئے پکڑی گئیں تو کچھ لوگ دفاع میں نکل آئے اور لوگوں کی کھال اتارنے والے ایان علی کی مفت میں پیروی کررہے ہیں، جواب دیا جائے کہ ایان علی کا آصف زرداری سے کیا تعلق ہے۔ چوہدری نثارعلی نے کہا کہ بلاول بھٹوا ورایان علی کے ٹکٹ کے پیسے ایک ہی اکاؤنٹ سے جاتے ہیں جب کہ ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرطرح کے تعاون کے لئے تیار ہوں لیکن کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہم ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کریں، بیٹھ کرمعاملات حل کریں جس کے لئے 3 آپشنز ہیں اور الزامات لگانے کے بجائے کمیشن بنادیا جائے جس کے لئے میڈیا، جوڈیشل کمیشن اور تیسرا سپریم کورٹ کا فورم ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ سارک کانفرنس میں روایت سے ہٹ کربھارتی وزیرداخلہ کوپریزنٹیشن کی اجازت دی اور وہ میری تقریر کے بعد جواب دے سکتے تھے لیکن انہوں نے جواب دینے کے بجائے راجیا سبھا میں بات کی اور کہا کہ پاکستان سبق سیکھنے کو تیار نہیں، کاش جو بات انہوں نے راجیا سبھا میں کہی وہ یہاں کہتے تومیں انھیں جواب دیتا، سارک کانفرنس میں بولنے پر کچھ لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، میرےموقف پرسب کےبیان آئے مگرایک پارٹی کوسانپ سونگھ گیا، کشمیریوں کوگمراہ کرنیوالی پارٹی کےمنہ سےتعریف کاایک حرف نہیں نکلا، اسی سیاسی جماعت نے مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے۔ چوہدری نثارعلی نے کہا کہ آپ کے گھر میں کوئی مہمان آئے اور وہ تضحیک کرکے جائے آپ گھگو بن کر بیٹھ جائیں یہ کہاں کااحترام ہے، سارک کانفرنس میں میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کررہا تھا، اگر پاکستان کی تضحیک ہو تو جواب دینا میرا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرداخلہ کی پاکستان آمد پر مختلف گروپس کی جانب سےاحتجاج کیا گیا لیکن ہمارے اور ان کے احتجاج میں فرق تھا،خورشید قصوری نے دونوں ممالک کوقریب لانے کے لئے کتاب لکھی تو میزبان کا منہ کالا کیا گیا، شہریارخان، نجم سیٹھی، راحت فتح علی خان کا کیا قصور تھا جوسلوک ان لوگوں کے ساتھ بھارت میں کیا گیا۔ وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں بھارتی وزیرداخلہ کو کھانے کی دعوت نہ پوچھنے پر بھارتی اور مقامی میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ میں نے بھارتی وزیرداخلہ کی مہمان نوازی نہیں کی جس کی وضاحت ضروری ہے، میٹنگ کے دوران کھانے کی دعوت وزارت داخلہ یا میری طرف سے نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے تھا۔ میٹنگ کے دوران 2 گھنٹے کا وقفہ تھا جس کے دوران مجھے وزیراعظم ہاؤس میں اہم میٹنگ میں شرکت کرنا تھی، تاہم یہ تاثر دینا کہ میں نے بھارتی وزیرداخلہ کو نظرانداز کیا یہ درست نہیں، پاکستان نے میزبان ملک کی حیثیت سے تمام پروٹوکول کے فرائض پورے کئے اور یہاں تک کہ مہمانوں کو لانے کے لئے ہیلی کاپٹر کا بھی انتظام کیا گیا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ بلیک لسٹ پر موجود امریکی شہری میتھیو بیرٹ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں وہ جاسوس ثٓابت نہیں ہوا اور آئندہ 2 سے تین روز میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اسے ڈی پورٹ کردیا جائے گا، پاکستان میں امریکی شہری کو چھوڑنے والا گرفتار ہے، جس کے خلاف کارروائی ہوگی اور جس نے غلطی کی نشاندہی کی اس کو تعریفی سند اور ایک لاکھ روپےانعام دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلیک لسٹ پر ہونے کے باوجود میتھیو کو 24 گھنٹے کے اندر ویزا جاری کیا گیا اور اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹر کی غلطی تھی جس کی وجہ سے بلیک لسٹ امریکی شہری کا پتا نہیں چل سکا۔ out of 5 stars

بلاول اور ایان کے ٹکٹ ایک ہی اکاؤنٹ سے خریدے جاتے ہیں، چوہدری نثار

مزید پڑھیں

کومبنگ آپریشن کے تحت 2 اہم کمانڈروں سمیت 6 دہشت گرد گرفتار، آئی ایس پی آر

out of 5گوجر خان(مشرق نیوز)ترجمان پاک فوج کے مطابق قانون نافذ کرنے والےاداروں نے کلرسیداں اور گوجر خان میں مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے 2 کمانڈروں سمیت 6 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کومبنگ آپریشن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن کے دوران پوٹھوہار کے علاقے گوجر خان اور کلر سیداں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2 اہم کمانڈروں سمیت 6 دہشت گرد گرفتار کرلئے جب کہ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے دیسی ساختہ بم اور دیگر اسلحے سمیت تیار آئی ڈیز بھی برآمد کی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تخریب کاری کی کسی بھی واردات کے لئے تیار تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے ختم کرنے کے لئے مشترکہ آپریشنز پورے ملک میں جاری ہیں اور اب خفیہ ٹھکانوں میں چھپے ہر دہشت گرد کا خاتمہ کردیا جائے گا۔Rating:گوجر خان(مشرق نیوز)ترجمان پاک فوج کے مطابق قانون نافذ کرنے والےاداروں نے کلرسیداں اور گوجر خان میں مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے 2 کمانڈروں سمیت 6 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کومبنگ آپریشن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن کے دوران پوٹھوہار کے علاقے گوجر خان اور کلر سیداں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2 اہم کمانڈروں سمیت 6 دہشت گرد گرفتار کرلئے جب کہ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے دیسی ساختہ بم اور دیگر اسلحے سمیت تیار آئی ڈیز بھی برآمد کی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تخریب کاری کی کسی بھی واردات کے لئے تیار تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے ختم کرنے کے لئے مشترکہ آپریشنز پورے ملک میں جاری ہیں اور اب خفیہ ٹھکانوں میں چھپے ہر دہشت گرد کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ out of 5 stars

کومبنگ آپریشن کے تحت 2 اہم کمانڈروں سمیت 6 دہشت گرد گرفتار، آئی ایس پی آر

مزید پڑھیں

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مساجد کو تالے لگادیئے

out of 5سری نگر(مشرق نیوز)بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی انتہا کرتے ہوئے وادی میں کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لئے مساجد کو تالے لگادیئے ہیں جب کہ وادی میں مسلسل 35 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 35 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جب کہ جنت نظیر وادی فوجی چھاؤنی میں بدل کر رہ گئی ہے۔ قابض بھارتی فوج نے حریت پسند رہنماؤں کی جانب سے احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے خوف سے سری نگر کی جامع مسجد سمیت تمام مساجد کوتالے لگا دیئے ہیں جب کہ حریت قیادت کو یا تو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے یا پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھی معطل کر رکھی ہے جب کہ اخبارات و رسائل کے دفاتر بھی زبردستی بند کرا دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 70 سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جب کہ قابض فوج کی جانب سے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جارہا ہے جس سے سیکڑوں کشمیری اپنی بینائیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔Rating:سری نگر(مشرق نیوز)بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی انتہا کرتے ہوئے وادی میں کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لئے مساجد کو تالے لگادیئے ہیں جب کہ وادی میں مسلسل 35 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 35 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جب کہ جنت نظیر وادی فوجی چھاؤنی میں بدل کر رہ گئی ہے۔ قابض بھارتی فوج نے حریت پسند رہنماؤں کی جانب سے احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے خوف سے سری نگر کی جامع مسجد سمیت تمام مساجد کوتالے لگا دیئے ہیں جب کہ حریت قیادت کو یا تو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے یا پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھی معطل کر رکھی ہے جب کہ اخبارات و رسائل کے دفاتر بھی زبردستی بند کرا دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں بھارتی فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 70 سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جب کہ قابض فوج کی جانب سے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جارہا ہے جس سے سیکڑوں کشمیری اپنی بینائیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ out of 5 stars

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے مساجد کو تالے لگادیئے

مزید پڑھیں

نومولود بچوں کو اغوا کرکے فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

out of 5پشاور(مشرق نیوز)صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے پولیس نے نومولود بچوں کو اغوا کرکے انہیں فروخت کرنے والا 6 رکنی گروہ گرفتار کرلیا۔ یہ گروہ پشاور کے مختلف میٹرنٹی ہومز اور ہسپتالوں سے نومولود بچوں کو اغوا کرکے انہیں پیسوں کے عوض فروخت کرتا تھا۔ ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کی نرسیں، ڈاکٹرز اور دیگر عملہ نومولود بچوں کے اغوا میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر ہشت نگری پولیس اسٹیشن کی حدود میں ڈبگری علاقے میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا اور ایک نومولود بچے کی فروخت کی ڈیل کرنے والی وجیہا نامی خاتون کو گرفتار کرلیا۔ یہ بھی پڑھیں: پنجاب: 98 فیصد ’اغواء شدہ‘ بچوں کی واپسی عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ وجیہا کی نشاندہی پر پولیس نے اغوا کار گروہ کے دیگر 5 کارندوں کو بھی گرفتار کیا۔ گروہ کے گرفتار کارندوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انہوں نے 70 ہزار سے لے کر 3 لاکھ روپے تک کی رقم کے عوض 9 نومولود بچوں کو فروخت کیا۔ واضح رہے گزشتہ چند روز کے دوران پشاور کے سرکاری ہسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا کے کئی واقعات پیش آئے تھے، جس کے بعد پولیس متحرک ہوئی۔ بچوں کے اغوا کے واقعات صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی پیش آرہے ہیں اور اب تک مختلف عمر کے سیکڑوں بچے لاپتہ ہوچکے ہیں۔ تاہم پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے بچوں کے اغواء کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پیش کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے 2011 سے 2016 کے دوران اغواء یا لاپتہ ہونے والے تقریباً ساڑھے 6 ہزار میں سے 98 فیصد بچے گھر واپس آچکے ہیں، جبکہ صرف 132 بچے ایسے ہیں جو اب بھی لاپتہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بچوں کے اعضاء نکالے جانے سے متعلق خبریں بھی محض افواہیں ہیں اور کمیٹی کو ایک بھی ایسا کیس نہیں ملا جس میں کسی بچے کے اعضاء نکالے گئے ہوں۔Rating:پشاور(مشرق نیوز)صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے پولیس نے نومولود بچوں کو اغوا کرکے انہیں فروخت کرنے والا 6 رکنی گروہ گرفتار کرلیا۔ یہ گروہ پشاور کے مختلف میٹرنٹی ہومز اور ہسپتالوں سے نومولود بچوں کو اغوا کرکے انہیں پیسوں کے عوض فروخت کرتا تھا۔ ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کی نرسیں، ڈاکٹرز اور دیگر عملہ نومولود بچوں کے اغوا میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر ہشت نگری پولیس اسٹیشن کی حدود میں ڈبگری علاقے میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا اور ایک نومولود بچے کی فروخت کی ڈیل کرنے والی وجیہا نامی خاتون کو گرفتار کرلیا۔ یہ بھی پڑھیں: پنجاب: 98 فیصد ’اغواء شدہ‘ بچوں کی واپسی عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ وجیہا کی نشاندہی پر پولیس نے اغوا کار گروہ کے دیگر 5 کارندوں کو بھی گرفتار کیا۔ گروہ کے گرفتار کارندوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انہوں نے 70 ہزار سے لے کر 3 لاکھ روپے تک کی رقم کے عوض 9 نومولود بچوں کو فروخت کیا۔ واضح رہے گزشتہ چند روز کے دوران پشاور کے سرکاری ہسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا کے کئی واقعات پیش آئے تھے، جس کے بعد پولیس متحرک ہوئی۔ بچوں کے اغوا کے واقعات صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی پیش آرہے ہیں اور اب تک مختلف عمر کے سیکڑوں بچے لاپتہ ہوچکے ہیں۔ تاہم پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے بچوں کے اغواء کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پیش کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے 2011 سے 2016 کے دوران اغواء یا لاپتہ ہونے والے تقریباً ساڑھے 6 ہزار میں سے 98 فیصد بچے گھر واپس آچکے ہیں، جبکہ صرف 132 بچے ایسے ہیں جو اب بھی لاپتہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بچوں کے اعضاء نکالے جانے سے متعلق خبریں بھی محض افواہیں ہیں اور کمیٹی کو ایک بھی ایسا کیس نہیں ملا جس میں کسی بچے کے اعضاء نکالے گئے ہوں۔ out of 5 stars

نومولود بچوں کو اغوا کرکے فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

مزید پڑھیں
مزید خبریں

بین اقوامی

خبریں دنیا سے

ہندوستان: اے پی سی میں کشمیری عوام کی اعتماد سازی کا مطالبہ

out of 5نئی دہلی(مشرق نیوز)جموں و کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر ہندوستان میں بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں اپوزیشن سمیت ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے حکومت سے کشمیری عوام کے اعتماد کو جیتنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کردیا۔ رپورٹ کے مطابق اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر میں امن و امان کے قیام کیلئے حکومت کی حمایت کیلئے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ان کے خلاف چھرے کی گنوں کا استعمال بند کیا جائے۔ اپوزیش لیڈر نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ تمام گروپس، جن میں کشمیری حریت پسند بھی شامل ہیں، کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے اور وادئ میں فوج کو دیے گئے خصوصی اختیارات کے قانون آرم فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کو فوری طور پر شہری علاقوں سے اٹھایا جائے۔ تاہم اپوزیشن کے اس مطالبے پر حکومت کا کہنا تھا کہ مذکورہ قانون کو فوری طور پر ختم کرنے کیلئے اس وقت وادئ کے حالات سازگار نہیں۔ مزید پڑھیں: جموں و کشمیر صورتحال: ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ اس موقع پر ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کانگریس کی جانب سے اپنے خطاب میں کہا کہ 'مرکز کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ شہریوں کی دیکھ بحال کرنے والی حکومت ہے'۔ حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیش سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور کرے گی جس میں وادئ کے حالات بہتر ہونے کے بعد آل پارٹیز کے وفد کو کشمیر بھیجنا بھی شامل ہے۔ ماضی میں وزیراعظم نریندر مودی کو جموں و کشمیر کی صورت حال پر بیان نہ دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے غلام بنی آزاد نے اے پی سی کے دوران کہا کہ 'ہم اسی صورت میں مطمئن ہوسکتے ہیں جب وادئ کی صورت حال معمول پر آجائے اور حکومت اس حوالے سے اقدامات کرے'۔ اے پی سی کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ 'آزاد کشمیر بھی جموں و کشمیر کا حصہ ہے'۔ اس موقع پر ہندوستان کی اعلیٰ قیادت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا کہ 'قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، لیکن ہمیں جموں و کشمیر کی عوام کے اعتماد کو جیتنا ہوگا'۔ جموں و کشمیر میں جاری کشیدہ صورت حال پر پاکستانی کی جانب سے عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں کے جواب میں نریندر مودی نے پاکستان پر جموں و کشمیر میں سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگایا اور کہا کہ بلوچستان اور آزاد کشمیر کی عوام پر ہونے والے مظالم کیلئے پاکستان کو بھی دنیا بھر میں بے نقاب کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ یہ اے پی سی جموں و کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورت حال کے سیاسی حل کی تلاش کیلئے بلائی گئی تھی، جو 8 اگست کو نوجوان حریت پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہرین پر ہندوستانی فورسز کی طاقت کے استعمال اور اس میں 60 سے زائد افراد کی ہلاکت اور ہزاروں کے زخمی ہونے کے باعث کشیدہ ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ وادئ میں تقریبا ایک ماہ سے جاری کشیدگی میں ہندوستانی فورسز کی جانب سے استعمال کی جانے والی چھرے فائر کرنے والی گنوں سے 100 سے زائد افراد بینائی سے محروم ہوئے جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ دیگر جسمانی معزوری کا شکار ہوئے۔Rating:نئی دہلی(مشرق نیوز)جموں و کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر ہندوستان میں بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں اپوزیشن سمیت ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے حکومت سے کشمیری عوام کے اعتماد کو جیتنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کردیا۔ رپورٹ کے مطابق اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر میں امن و امان کے قیام کیلئے حکومت کی حمایت کیلئے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ان کے خلاف چھرے کی گنوں کا استعمال بند کیا جائے۔ اپوزیش لیڈر نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ تمام گروپس، جن میں کشمیری حریت پسند بھی شامل ہیں، کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے اور وادئ میں فوج کو دیے گئے خصوصی اختیارات کے قانون آرم فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کو فوری طور پر شہری علاقوں سے اٹھایا جائے۔ تاہم اپوزیشن کے اس مطالبے پر حکومت کا کہنا تھا کہ مذکورہ قانون کو فوری طور پر ختم کرنے کیلئے اس وقت وادئ کے حالات سازگار نہیں۔ مزید پڑھیں: جموں و کشمیر صورتحال: ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ اس موقع پر ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کانگریس کی جانب سے اپنے خطاب میں کہا کہ 'مرکز کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ شہریوں کی دیکھ بحال کرنے والی حکومت ہے'۔ حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیش سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور کرے گی جس میں وادئ کے حالات بہتر ہونے کے بعد آل پارٹیز کے وفد کو کشمیر بھیجنا بھی شامل ہے۔ ماضی میں وزیراعظم نریندر مودی کو جموں و کشمیر کی صورت حال پر بیان نہ دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے غلام بنی آزاد نے اے پی سی کے دوران کہا کہ 'ہم اسی صورت میں مطمئن ہوسکتے ہیں جب وادئ کی صورت حال معمول پر آجائے اور حکومت اس حوالے سے اقدامات کرے'۔ اے پی سی کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ 'آزاد کشمیر بھی جموں و کشمیر کا حصہ ہے'۔ اس موقع پر ہندوستان کی اعلیٰ قیادت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا کہ 'قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، لیکن ہمیں جموں و کشمیر کی عوام کے اعتماد کو جیتنا ہوگا'۔ جموں و کشمیر میں جاری کشیدہ صورت حال پر پاکستانی کی جانب سے عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں کے جواب میں نریندر مودی نے پاکستان پر جموں و کشمیر میں سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگایا اور کہا کہ بلوچستان اور آزاد کشمیر کی عوام پر ہونے والے مظالم کیلئے پاکستان کو بھی دنیا بھر میں بے نقاب کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ یہ اے پی سی جموں و کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورت حال کے سیاسی حل کی تلاش کیلئے بلائی گئی تھی، جو 8 اگست کو نوجوان حریت پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہرین پر ہندوستانی فورسز کی طاقت کے استعمال اور اس میں 60 سے زائد افراد کی ہلاکت اور ہزاروں کے زخمی ہونے کے باعث کشیدہ ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ وادئ میں تقریبا ایک ماہ سے جاری کشیدگی میں ہندوستانی فورسز کی جانب سے استعمال کی جانے والی چھرے فائر کرنے والی گنوں سے 100 سے زائد افراد بینائی سے محروم ہوئے جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ دیگر جسمانی معزوری کا شکار ہوئے۔ out of 5 stars

ہندوستان: اے پی سی میں کشمیری عوام کی اعتماد سازی کا مطالبہ

مزید پڑھیں

شبہ ہے کوئٹہ دھماکے میں طالبان کو افغان خفیہ ادارے کی حمایت حاصل تھی، سرتاج عزیز

out of 5 اسلام آباد(مشرق نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری طالبان کے ایک گروپ نے تسلیم کی اور شبہ ہے کہ اس گروپ کو افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کی حمایت حاصل تھی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ طالبان کے ایک گروپ نے کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، شبہ ہے کہ اس گروپ کو این ڈی ایس کی حمایت حاصل ہے، این ڈی ایس اور”را” کا گٹھ جوڑ بھی سامنے ہے، افغانستان سے کہیں گے کہ این ڈی ایس اور آئی ایس آئی کا رابطہ بحال ہو تاکہ دونوں ملکوں کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے رابطے سے کوئٹہ جیسے واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغان فوجیوں کی تربیت اور انہیں چار ہیلی کاپٹرز فراہم کر رہا ہے تاہم ہم کہتے ہیں کہ این ڈی ایس اور آئی ایس آئی میں تعاون سے غلط فہمیوں میں کمی آئے گی، افغانستان کے اندرونی حالات خراب ہیں اور افغانستان کی سرحد پر جو بھی گیٹ بنایا جائے گا وہ پاکستانی حدود میں ہوگا۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے گرفتار کئے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کے حوالے سے ثبوت تیار کر رہے ہیں، کلبھوشن یادیو اکیلا نہیں بلکہ اس کا نیٹ ورک بلوچستان میں کام کر رہا تھا تاہم آئندہ ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھیں گے اور اس حوالے سے تیار کردہ ڈوزیئر میں را کی پاکستان میں مداخلت کے کافی ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کا ایجنڈا سرفہرست ہو گا تاہم جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں، مقبوضہ کشمیر میں کرائسس موجود ہے جس پر بات کرنا ہو گی تاہم فریقین کی رضامندی کے بغیر عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے جا سکتے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ نیوکلئیر سپلائر گروپ کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو کامیابی ملی اور کئی رکن ممالک نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا جب کہ رکن ممالک سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو این ایس جی کی ایک ساتھ رکنیت دی جانی چاہیے، امید ہے کہ پاکستان کو بائی پاس کر کے بھارت کو این ایس جی میں مواقع نہیں دیئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان این ایس جی کا رکن بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، ہم این ایس جی کی رکنیت کی شرائط کو کافی حد تک پورا کرتے ہیں، رکنیت ملنے پرپاکستان نیوکلیئرتوانائی ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی حاصل کرسکے گا، پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی قوانین اور معیارات سے ہم آہنگ ہے اور تمام نیوکلیر مواد پر کافی اچھے سیف گارڈز ہیں جب کہ حال ہی میں پاکستان نے پبلک اسٹیٹمنٹ فار نیوکلیئرٹیسٹ کی شرط بھی پوری کی، پاکستان ابھی تک نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک دنیا کے عزم پر قائم ہے اور ہم نے بھارت کے ساتھ نیوکلیئر ٹیسٹنگ کے حوالے سے معاہدے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی دہشت گردوں کو ہمارے سسٹم میں گھسنے کا موقع مل جاتا ہے اور کوئٹہ جیسے واقعات ہوجاتے ہیں تاہم یہ تاثر دینا کہ پاکستان الگ تھلک اور کٹا ہوا ہے ٹھیک نہیں ہے، ہمسایوں سے پرامن تعلقات برقرار رکھنا ترجیحات میں شامل ہے، بھارت سے مسئلہ کشمیر پر علیحدہ مذاکرات ہونے چاہیئے جب کہ اس حوالے سے سیکرٹری خارجہ بھارتی ہم منصب کو خط لکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی سفیروں کی کانفرنس کی سفارشات وزیراعظم کو بھجوا دی ہیں اور وزیراعظم سے منظوری کے بعد 7 نکاتی خارجہ پالیسی ترتیب دیں گے تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہے۔Rating: اسلام آباد(مشرق نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری طالبان کے ایک گروپ نے تسلیم کی اور شبہ ہے کہ اس گروپ کو افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کی حمایت حاصل تھی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ طالبان کے ایک گروپ نے کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے، شبہ ہے کہ اس گروپ کو این ڈی ایس کی حمایت حاصل ہے، این ڈی ایس اور”را” کا گٹھ جوڑ بھی سامنے ہے، افغانستان سے کہیں گے کہ این ڈی ایس اور آئی ایس آئی کا رابطہ بحال ہو تاکہ دونوں ملکوں کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے رابطے سے کوئٹہ جیسے واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغان فوجیوں کی تربیت اور انہیں چار ہیلی کاپٹرز فراہم کر رہا ہے تاہم ہم کہتے ہیں کہ این ڈی ایس اور آئی ایس آئی میں تعاون سے غلط فہمیوں میں کمی آئے گی، افغانستان کے اندرونی حالات خراب ہیں اور افغانستان کی سرحد پر جو بھی گیٹ بنایا جائے گا وہ پاکستانی حدود میں ہوگا۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے گرفتار کئے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کے حوالے سے ثبوت تیار کر رہے ہیں، کلبھوشن یادیو اکیلا نہیں بلکہ اس کا نیٹ ورک بلوچستان میں کام کر رہا تھا تاہم آئندہ ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھیں گے اور اس حوالے سے تیار کردہ ڈوزیئر میں را کی پاکستان میں مداخلت کے کافی ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کا ایجنڈا سرفہرست ہو گا تاہم جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں، مقبوضہ کشمیر میں کرائسس موجود ہے جس پر بات کرنا ہو گی تاہم فریقین کی رضامندی کے بغیر عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے جا سکتے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ نیوکلئیر سپلائر گروپ کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو کامیابی ملی اور کئی رکن ممالک نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا جب کہ رکن ممالک سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو این ایس جی کی ایک ساتھ رکنیت دی جانی چاہیے، امید ہے کہ پاکستان کو بائی پاس کر کے بھارت کو این ایس جی میں مواقع نہیں دیئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان این ایس جی کا رکن بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، ہم این ایس جی کی رکنیت کی شرائط کو کافی حد تک پورا کرتے ہیں، رکنیت ملنے پرپاکستان نیوکلیئرتوانائی ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی حاصل کرسکے گا، پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی قوانین اور معیارات سے ہم آہنگ ہے اور تمام نیوکلیر مواد پر کافی اچھے سیف گارڈز ہیں جب کہ حال ہی میں پاکستان نے پبلک اسٹیٹمنٹ فار نیوکلیئرٹیسٹ کی شرط بھی پوری کی، پاکستان ابھی تک نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک دنیا کے عزم پر قائم ہے اور ہم نے بھارت کے ساتھ نیوکلیئر ٹیسٹنگ کے حوالے سے معاہدے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی دہشت گردوں کو ہمارے سسٹم میں گھسنے کا موقع مل جاتا ہے اور کوئٹہ جیسے واقعات ہوجاتے ہیں تاہم یہ تاثر دینا کہ پاکستان الگ تھلک اور کٹا ہوا ہے ٹھیک نہیں ہے، ہمسایوں سے پرامن تعلقات برقرار رکھنا ترجیحات میں شامل ہے، بھارت سے مسئلہ کشمیر پر علیحدہ مذاکرات ہونے چاہیئے جب کہ اس حوالے سے سیکرٹری خارجہ بھارتی ہم منصب کو خط لکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی سفیروں کی کانفرنس کی سفارشات وزیراعظم کو بھجوا دی ہیں اور وزیراعظم سے منظوری کے بعد 7 نکاتی خارجہ پالیسی ترتیب دیں گے تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہے۔ out of 5 stars

شبہ ہے کوئٹہ دھماکے میں طالبان کو افغان خفیہ ادارے کی حمایت حاصل تھی، سرتاج عزیز

مزید پڑھیں

شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل جاپانی حدود میں گرگیا

out of 5سیئول: شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کیا گیا تجرباتی بیلسٹک میزائل جاپان کے زیر انتظام سمندری حدود میں جاگرا تاہم کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا تاہم یہ میزائل جاپان کے اکنامک زون میں جاگرا۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ 18 برس بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا گیا کوئی میزائل جاپانی حدود میں گرا ہے اور شمالی کوریا نے اس کی کوئی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی۔ اس واقعے کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، شمالی کوریا نے امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا میں اینٹی میزائل سسٹم کی تعیناتی کے فیصلے پر خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس اقدام کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کا تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا اور امریکا کی سالانہ فوجی مشقیں شروع ہونے میں چند ہفتے رہ گئے ہیں۔ گزشتہ برس ان فوجی مشقوں میں امریکا کے 30 ہزار اور جنوبی کوریا کے 50 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔ جاپانی حدود میں میزائل گرنے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے نے کہا کہ یہ واقعہ جاپان کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور ہم اس پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اشتعال انگیز عمل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ جاپان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے سیئول کے وقت کے مطابق صبح 7 بجکر 50 منٹ پر جنوبی صوبے ہوانگھائے سے لانچ کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ میزائل لانچ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شمالی کوریا پڑوسی ممالک اور جنوبی کوریا کی اہم تنصیبات جیسے بندرگاہوں اور ایئرپورٹس کو براہ راست بنانا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو میزائل فائر کیا گیا وہ ممکنہ طور پر روڈونگ طرز کا درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تھا جو ایک ہزار کلو میٹر تک فضا میں رہا۔ جنوبی کوریا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں صرف ایک میزائل لانچ کا ذکر ہے تاہم امریکی اسٹریٹجک کمانڈ کا کہنا ہے کہ اسے دو میزائل کے لانچ ہونے کا پتہ چلا ہے جن میں ایک لانچنگ کے فوراً بعد ہی تباہ ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ 19 جولائی کو شمالی کوریا نے تین بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے جو 500 سے 600 کلو میٹر دور اس کی مشرقی ساحلی پٹی پر گر کر تباہ ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ مارچ 2016 میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا پر چوتھا جوہری تجربہ کرنے کی پاداش میں نئی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ اس جوہری تجربے کے بعد سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی عروج پر ہے، شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان 1950 سے 1953 تک جنگ بھی ہوچکی ہے۔Rating:سیئول: شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کیا گیا تجرباتی بیلسٹک میزائل جاپان کے زیر انتظام سمندری حدود میں جاگرا تاہم کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا تاہم یہ میزائل جاپان کے اکنامک زون میں جاگرا۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ 18 برس بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا گیا کوئی میزائل جاپانی حدود میں گرا ہے اور شمالی کوریا نے اس کی کوئی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی۔ اس واقعے کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، شمالی کوریا نے امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا میں اینٹی میزائل سسٹم کی تعیناتی کے فیصلے پر خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس اقدام کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کا تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا اور امریکا کی سالانہ فوجی مشقیں شروع ہونے میں چند ہفتے رہ گئے ہیں۔ گزشتہ برس ان فوجی مشقوں میں امریکا کے 30 ہزار اور جنوبی کوریا کے 50 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔ جاپانی حدود میں میزائل گرنے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے نے کہا کہ یہ واقعہ جاپان کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور ہم اس پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اشتعال انگیز عمل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ جاپان کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے سیئول کے وقت کے مطابق صبح 7 بجکر 50 منٹ پر جنوبی صوبے ہوانگھائے سے لانچ کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ میزائل لانچ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شمالی کوریا پڑوسی ممالک اور جنوبی کوریا کی اہم تنصیبات جیسے بندرگاہوں اور ایئرپورٹس کو براہ راست بنانا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو میزائل فائر کیا گیا وہ ممکنہ طور پر روڈونگ طرز کا درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تھا جو ایک ہزار کلو میٹر تک فضا میں رہا۔ جنوبی کوریا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں صرف ایک میزائل لانچ کا ذکر ہے تاہم امریکی اسٹریٹجک کمانڈ کا کہنا ہے کہ اسے دو میزائل کے لانچ ہونے کا پتہ چلا ہے جن میں ایک لانچنگ کے فوراً بعد ہی تباہ ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ 19 جولائی کو شمالی کوریا نے تین بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے جو 500 سے 600 کلو میٹر دور اس کی مشرقی ساحلی پٹی پر گر کر تباہ ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ مارچ 2016 میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا پر چوتھا جوہری تجربہ کرنے کی پاداش میں نئی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ اس جوہری تجربے کے بعد سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی عروج پر ہے، شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان 1950 سے 1953 تک جنگ بھی ہوچکی ہے۔ out of 5 stars

شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل جاپانی حدود میں گرگیا

مزید پڑھیں

سونیا گاندھی کو مودی کے حلقے میں روڈ شو مہنگا پڑ گیا

out of 5نئی دہلی: ہندوستان کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقے بنارس میں روڈ شو کرنا مہنگا پڑ گیا۔ کانگریس رہنما ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس میں پارٹی کی انتخابی مہم کی شروعات کے حوالے سے منعقدہ روڈ شو میں شریک تھی لیکن شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں پروگرام ادھورا چھوڑ کر دہلی واپس جانا پڑا۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی واپسی سے قبل سونیا گاندھی نے دو گھنٹے بنارس کے ایئرپورٹ پر بھی آرام کیا اور بعد ازاں شام میں نئی دہلی پہنچ گئیں۔ دہلی ایئرپورٹ پر سونیا گاندھی کی بیٹی پریانکا گاندھی اور بیٹے راہول گاندھی انہیں لینے کیلئے موجود تھے، پریانکا گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بنارس جانے سے قبل ہی ان کی طبیعت تھوڑی ناساز تھی لیکن وہ جانے کیلئے بضد تھیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روڈ شو کو دو گھنٹے چلنا تھا لیکن اس کا دورانیہ پانچ گھنٹے تک بڑھ گیا تھا اور شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے سونیا گاندھی ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوگئیں۔ سونیا گاندھی نے بعد ازاں اپنے بیان میں کہا کہ وہ صحتیاب ہو کر جلد دوبارہ بنارس کا دورہ کریں گی۔ مودی کی خصوصی طیارہ بھیجنے کی پیشکش اطلاعات کے مطابق جب سونیا گاندھی بنارس ایئرپورٹ پر آرام کررہی تھیں تو وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کی جانب سے اترپردیش میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار شیلا ڈکشت کو فون کیا اور سونیا گاندھی کی طبیعت معلوم کی۔ ساتھ ہی نریندر مودی نے ایک ڈاکٹر اور سونیا گاندھی کو دہلی پہنچانے کیلئے خصوصی طیارہ دینے کی بھی پیشکش کی۔ بعد ازاں کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے میڈیا کو بتایا کہ سونیا گاندھی کی طبیعت اب بہتر ہے، انہیں جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے بخار ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ اتر پردیش کے ریاستی انتخابات 2017 میں ہوں گے۔Rating:نئی دہلی: ہندوستان کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقے بنارس میں روڈ شو کرنا مہنگا پڑ گیا۔ کانگریس رہنما ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس میں پارٹی کی انتخابی مہم کی شروعات کے حوالے سے منعقدہ روڈ شو میں شریک تھی لیکن شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں پروگرام ادھورا چھوڑ کر دہلی واپس جانا پڑا۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی واپسی سے قبل سونیا گاندھی نے دو گھنٹے بنارس کے ایئرپورٹ پر بھی آرام کیا اور بعد ازاں شام میں نئی دہلی پہنچ گئیں۔ دہلی ایئرپورٹ پر سونیا گاندھی کی بیٹی پریانکا گاندھی اور بیٹے راہول گاندھی انہیں لینے کیلئے موجود تھے، پریانکا گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بنارس جانے سے قبل ہی ان کی طبیعت تھوڑی ناساز تھی لیکن وہ جانے کیلئے بضد تھیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روڈ شو کو دو گھنٹے چلنا تھا لیکن اس کا دورانیہ پانچ گھنٹے تک بڑھ گیا تھا اور شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے سونیا گاندھی ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوگئیں۔ سونیا گاندھی نے بعد ازاں اپنے بیان میں کہا کہ وہ صحتیاب ہو کر جلد دوبارہ بنارس کا دورہ کریں گی۔ مودی کی خصوصی طیارہ بھیجنے کی پیشکش اطلاعات کے مطابق جب سونیا گاندھی بنارس ایئرپورٹ پر آرام کررہی تھیں تو وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کی جانب سے اترپردیش میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار شیلا ڈکشت کو فون کیا اور سونیا گاندھی کی طبیعت معلوم کی۔ ساتھ ہی نریندر مودی نے ایک ڈاکٹر اور سونیا گاندھی کو دہلی پہنچانے کیلئے خصوصی طیارہ دینے کی بھی پیشکش کی۔ بعد ازاں کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے میڈیا کو بتایا کہ سونیا گاندھی کی طبیعت اب بہتر ہے، انہیں جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے بخار ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ اتر پردیش کے ریاستی انتخابات 2017 میں ہوں گے۔ out of 5 stars

سونیا گاندھی کو مودی کے حلقے میں روڈ شو مہنگا پڑ گیا

مزید پڑھیں

'فتح اللہ' کے خلاف پاکستان کا تعاون حاصل: ترکی

out of 5اسلام آباد: ترکی نے بغاوت کی کوشش کی مذمت اور جمہوریت کا ساتھ دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو نے ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد اسلام آباد میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش اور جمہوریت کی حمایت کے حوالے سے پارلیمنٹ میں قرار داد منظور کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'دہشتگرد تنظیم فتح اللہ' کے خلاف کارروائی میں ترکی کو پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل ہے جس کے سربراہ فتح اللہ گولن ہیں اور ترکی انہیں بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح اللہ تنظیم کی پاکستان اور دیگر ممالک میں موجودگی کسی سی ڈھکی چھپی نہیں اور اس حوالے سے ہمیں پاکستان کا مکمل تعاون حاصل ہے اور مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کی تنظمیں جس ملک میں بھی موجود ہیں اس کی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ دہشتگرد تنظیم کے دنیا بھر میں اسکولز کے نیٹ ورک اور ثقافتی ادارے ہیں اور ابتداء میں ہم نے ان کی معاونت اس لیے کی کیوں کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا خفیہ ایجنڈا بھی ہے اور وہ اقتدار پر اس طرح قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس گروپ کی جانب سے پہلی بار اقتدار پر قبضے کی کوشش دسمبر 2013 میں کی گئی اور دنیا بھر میں اس دہشتگرد گروپ کے خلاف جنگ ضروری ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم پاکستان کو دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ترک حکومت کے کسی عہدے دار کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس معاملے پر او آئی سی میں بات ہوئی ہے اور رواں برس ہونے والے اجلاس میں بھی او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے فیکٹ فائنڈنگ مشن کشمیر بھیجنے کی سفارش کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کشمیر کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے نہ کہ طاقت کے استعمال سے اور میرا خیال ہے کہ پاکستان کا بھی یہی موقف ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد شروع ہونے والے کریک ڈائون کے حوالے سے بتایا کہ اس کریک ڈائون میں کسی بھی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا جارہا اور نہ ہی روز مرہ کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔ قبل ازیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات خطے میں امن اوراستحکام کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے دونوں ملکوں کے خیالات یکساں ہیں، پاکستان اور ترکی دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرتے رہیں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان ترک صدر اردگان کی قیادت میں مضبوط ترکی کی حمایت کرتا ہے۔ قبل ازیں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ترک سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون کے فروغ پر بات کی گئی، ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ رواں برس دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ ہوجائے گا۔ ترک وزیر خارجہ کی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو نے صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کی. اس موقع پر صدر ممنون نے کہا کہ پاکستان جمہوریت اور ترکی کے استحکام کیلئے ترک عوام اور صدر طیب اردگان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق صدر پاکستان نے جمہوری استحکام کیلئے ترک عوام کی کاوشوں کو سراہا جبکہ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے کی جانے والی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے حوالے سے ترکی پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ سے ملاقات کے اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی مشترکہ ثقافت، تاریخ، مذہب اور سماجی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فوجی بغاوت ناکام بنانے پر ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں، پاکستان بھی دہشت گردی کے باعث بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو ترکی سمیت دیگر ممالک نے سراہا، نیوکلیئرسپلائرز گروپ کی رکنیت کے لئے ترکی کی حمایت پر مشکور ہیں۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ فوجی بغاوت کے دوران پاکستانی حکومت اور عوام کی حمایت پر ان کے شکر گزار ہیں۔ گولن تحریک سے وابستہ اسکولز کی بندش کا مطالبہ ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں پاکستان میں موجود گولن تحریک سے وابستہ اسکولز کی بندش پر زور دیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان نے ترکی سے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن سے وابستہ اسکولوں کے نیٹ ورک کی تحقیقات کرے گا۔ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز کو بند کرنے کیلئے تیار ہے جہاں 10 ہزار سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ پاک ترک اسکولز تنظیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات پر تشویش ہے اور اسکولز کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ واضح رہے کہ فتح اللہ گولن کی ہزمت تحریک کے زیر انتظام 160 سے زائد ممالک میں 2ہزار سے زائد تعلیمی ادارے چلائے جارہے ہیں۔Rating:اسلام آباد: ترکی نے بغاوت کی کوشش کی مذمت اور جمہوریت کا ساتھ دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو نے ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد اسلام آباد میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش اور جمہوریت کی حمایت کے حوالے سے پارلیمنٹ میں قرار داد منظور کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'دہشتگرد تنظیم فتح اللہ' کے خلاف کارروائی میں ترکی کو پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل ہے جس کے سربراہ فتح اللہ گولن ہیں اور ترکی انہیں بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح اللہ تنظیم کی پاکستان اور دیگر ممالک میں موجودگی کسی سی ڈھکی چھپی نہیں اور اس حوالے سے ہمیں پاکستان کا مکمل تعاون حاصل ہے اور مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کی تنظمیں جس ملک میں بھی موجود ہیں اس کی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ دہشتگرد تنظیم کے دنیا بھر میں اسکولز کے نیٹ ورک اور ثقافتی ادارے ہیں اور ابتداء میں ہم نے ان کی معاونت اس لیے کی کیوں کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا خفیہ ایجنڈا بھی ہے اور وہ اقتدار پر اس طرح قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس گروپ کی جانب سے پہلی بار اقتدار پر قبضے کی کوشش دسمبر 2013 میں کی گئی اور دنیا بھر میں اس دہشتگرد گروپ کے خلاف جنگ ضروری ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم پاکستان کو دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ترک حکومت کے کسی عہدے دار کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس معاملے پر او آئی سی میں بات ہوئی ہے اور رواں برس ہونے والے اجلاس میں بھی او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے فیکٹ فائنڈنگ مشن کشمیر بھیجنے کی سفارش کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کشمیر کے مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے نہ کہ طاقت کے استعمال سے اور میرا خیال ہے کہ پاکستان کا بھی یہی موقف ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد شروع ہونے والے کریک ڈائون کے حوالے سے بتایا کہ اس کریک ڈائون میں کسی بھی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا جارہا اور نہ ہی روز مرہ کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔ قبل ازیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات خطے میں امن اوراستحکام کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے دونوں ملکوں کے خیالات یکساں ہیں، پاکستان اور ترکی دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرتے رہیں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان ترک صدر اردگان کی قیادت میں مضبوط ترکی کی حمایت کرتا ہے۔ قبل ازیں مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ترک سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون کے فروغ پر بات کی گئی، ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ رواں برس دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ ہوجائے گا۔ ترک وزیر خارجہ کی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو نے صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کی. اس موقع پر صدر ممنون نے کہا کہ پاکستان جمہوریت اور ترکی کے استحکام کیلئے ترک عوام اور صدر طیب اردگان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق صدر پاکستان نے جمہوری استحکام کیلئے ترک عوام کی کاوشوں کو سراہا جبکہ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے کی جانے والی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے حوالے سے ترکی پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ سے ملاقات کے اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی مشترکہ ثقافت، تاریخ، مذہب اور سماجی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فوجی بغاوت ناکام بنانے پر ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں، پاکستان بھی دہشت گردی کے باعث بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو ترکی سمیت دیگر ممالک نے سراہا، نیوکلیئرسپلائرز گروپ کی رکنیت کے لئے ترکی کی حمایت پر مشکور ہیں۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ فوجی بغاوت کے دوران پاکستانی حکومت اور عوام کی حمایت پر ان کے شکر گزار ہیں۔ گولن تحریک سے وابستہ اسکولز کی بندش کا مطالبہ ترک وزیر خارجہ میلود چاووش اوغلو نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں پاکستان میں موجود گولن تحریک سے وابستہ اسکولز کی بندش پر زور دیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان نے ترکی سے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن سے وابستہ اسکولوں کے نیٹ ورک کی تحقیقات کرے گا۔ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز کو بند کرنے کیلئے تیار ہے جہاں 10 ہزار سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ پاک ترک اسکولز تنظیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات پر تشویش ہے اور اسکولز کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ واضح رہے کہ فتح اللہ گولن کی ہزمت تحریک کے زیر انتظام 160 سے زائد ممالک میں 2ہزار سے زائد تعلیمی ادارے چلائے جارہے ہیں۔ out of 5 stars

'فتح اللہ' کے خلاف پاکستان کا تعاون حاصل: ترکی

مزید پڑھیں

پاکستانی الیکٹریشن نے متحدہ عرب امارات میں 10 لاکھ درہم کا انعام جیت لیا

out of 5دبئی کے انٹرنیشنل فائنانس سینٹر کے پاکستانی ملازم نے 10 لاکھ درہم کی خطیرانعامی رقم جیت لی ہے۔ عاطف نظام چوہدری نے ایک مواصلاتی کمپنی کی پری پیڈ بنڈل آفر خریدی تھی اور انہیں کمپنی کی جانب سے قرعہ اندازی کے بعد انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا، دبئی میڈیا سینٹر میں ڈی یو کمپنی کے چیف کمرشل آفیسر نے ایک تقریب کے دوران عاطف نظام کو ایک ملین درہم کا چیک دیا ۔ عاطف گزشتہ 7 برس سے متحدہ عرب امارت میں ملازمت کررہے ہیں اور اب وہ دبئی کے لکھ پتیوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اتنی بڑی انعامی رقم ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی زندگی تبدیل کردے گی تاہم اتنی بڑی رقم صرف کرنے کے لیے ابھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔Rating:دبئی کے انٹرنیشنل فائنانس سینٹر کے پاکستانی ملازم نے 10 لاکھ درہم کی خطیرانعامی رقم جیت لی ہے۔ عاطف نظام چوہدری نے ایک مواصلاتی کمپنی کی پری پیڈ بنڈل آفر خریدی تھی اور انہیں کمپنی کی جانب سے قرعہ اندازی کے بعد انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا، دبئی میڈیا سینٹر میں ڈی یو کمپنی کے چیف کمرشل آفیسر نے ایک تقریب کے دوران عاطف نظام کو ایک ملین درہم کا چیک دیا ۔ عاطف گزشتہ 7 برس سے متحدہ عرب امارت میں ملازمت کررہے ہیں اور اب وہ دبئی کے لکھ پتیوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اتنی بڑی انعامی رقم ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی زندگی تبدیل کردے گی تاہم اتنی بڑی رقم صرف کرنے کے لیے ابھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ out of 5 stars

پاکستانی الیکٹریشن نے متحدہ عرب امارات میں 10 لاکھ درہم کا انعام جیت لیا

مزید پڑھیں

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو سینسر کرنے پر فیس بک کو شدید تنقید کا سامنا

out of 5کراچی: مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کو فیس بک کی جانب سے سینسر کرنے کی ان گنت کوششوں پر سماجی حلقوں کی طرف ویب سائٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی ٹیلی کمیونکیشن، سیل فون اور انٹرنیٹ کمپنیوں نے بھی اپنی سروسز بند کررکھی ہیں جو مظلوم کشمیریوں کی آواز دبانے کی مذموم بھارتی کوشش ہے۔ دوسری جانب فیس بک نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد، تنظیموں یہاں تک کہ بھارت سے باہر کشمیریوں کے ہمدرد افراد اور تنظیموں کے فیس بک اکاؤنٹ معطل کردیئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے مظالم پر اظہارِ رائے، تصاویر اوربھارت سے علیحدگی کی تازہ لہر کی ویڈیوز موجود تھیں۔ اس ضمن میں پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کا فیس بک اکاؤنٹ بھی معطل کردیا گیا ہے جس میں انہوں نے کشمیر میں برہان شہید کے متعلق اور کشمیریوں پر ظلم کے خلاف پوسٹ کی تھیں۔ فیس بک پر اپنے غم وغصے کا اظہار کرنے والے افراد کے اکاؤنٹس ڈی ایکٹو کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سے وابستہ متعدد مقامی اخبارات، اہم شخصیات اور #BurhanWaniShaheed کے ہیش ٹیگ کو بھی سینسر کردیا گیا ہے۔ بھارتی ویب سائٹ آئی بی ٹائمز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کشمیر میں آزادی کی حامی ہما ڈار کا فیس بک اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ کردیا گیا ہے۔ جب فیس بک سے اتنی بڑی تعداد میں اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو ویب سائٹ کے حکام نے جواب دیا کہ ’’ ہم دہشت گردی اور جرائم میں ملوث کسی تنظیم اور شخص کو فیس بک پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ ہم وہ متن اور معلومات بھی ڈیلیٹ کرتے ہیں جو ایسے گروہوں اور مجرموں کی تائید اور حمایت میں لکھی جاتی ہیں۔‘‘ فیس بک نے مزید کہا کہ کبھی کبھی حکومتیں بھی ہم سے ایسے اکاؤنٹ اور معلومات بند کرنے کی درخواست کرتی ہیں جن کے ذمے دار مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جو باقاعدگی سے فیس بک اکاؤنٹ، پروفائلز اور پوسٹس کو ہٹانے اور ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس بھارت میں فیس بک اکاؤنٹس یا پوسٹس کو ہٹانے کی 15,155 درخواستیں دی گئیں جو 2104 کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔Rating:کراچی: مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کو فیس بک کی جانب سے سینسر کرنے کی ان گنت کوششوں پر سماجی حلقوں کی طرف ویب سائٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی ٹیلی کمیونکیشن، سیل فون اور انٹرنیٹ کمپنیوں نے بھی اپنی سروسز بند کررکھی ہیں جو مظلوم کشمیریوں کی آواز دبانے کی مذموم بھارتی کوشش ہے۔ دوسری جانب فیس بک نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد، تنظیموں یہاں تک کہ بھارت سے باہر کشمیریوں کے ہمدرد افراد اور تنظیموں کے فیس بک اکاؤنٹ معطل کردیئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے مظالم پر اظہارِ رائے، تصاویر اوربھارت سے علیحدگی کی تازہ لہر کی ویڈیوز موجود تھیں۔ اس ضمن میں پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کا فیس بک اکاؤنٹ بھی معطل کردیا گیا ہے جس میں انہوں نے کشمیر میں برہان شہید کے متعلق اور کشمیریوں پر ظلم کے خلاف پوسٹ کی تھیں۔ فیس بک پر اپنے غم وغصے کا اظہار کرنے والے افراد کے اکاؤنٹس ڈی ایکٹو کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سے وابستہ متعدد مقامی اخبارات، اہم شخصیات اور #BurhanWaniShaheed کے ہیش ٹیگ کو بھی سینسر کردیا گیا ہے۔ بھارتی ویب سائٹ آئی بی ٹائمز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کشمیر میں آزادی کی حامی ہما ڈار کا فیس بک اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ کردیا گیا ہے۔ جب فیس بک سے اتنی بڑی تعداد میں اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو ویب سائٹ کے حکام نے جواب دیا کہ ’’ ہم دہشت گردی اور جرائم میں ملوث کسی تنظیم اور شخص کو فیس بک پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ ہم وہ متن اور معلومات بھی ڈیلیٹ کرتے ہیں جو ایسے گروہوں اور مجرموں کی تائید اور حمایت میں لکھی جاتی ہیں۔‘‘ فیس بک نے مزید کہا کہ کبھی کبھی حکومتیں بھی ہم سے ایسے اکاؤنٹ اور معلومات بند کرنے کی درخواست کرتی ہیں جن کے ذمے دار مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جو باقاعدگی سے فیس بک اکاؤنٹ، پروفائلز اور پوسٹس کو ہٹانے اور ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس بھارت میں فیس بک اکاؤنٹس یا پوسٹس کو ہٹانے کی 15,155 درخواستیں دی گئیں جو 2104 کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔ out of 5 stars

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو سینسر کرنے پر فیس بک کو شدید تنقید کا سامنا

مزید پڑھیں

ہندوستانی شہری نے اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہرا دیا

out of 5نالندا: ہندوستان میں ایک شخص نے اپنے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔ ہندوستان کی ریاست بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے آبائی ضلع میں ایک شخص نے اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق نالندا کے ایک محلے میں رہائشی عمارت پر محمد جيادالدين رضا خان نامی شخص نے اپنے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لگایا، جس کی اطلاع صبح سویرے علاقہ مکینوں نے مقامی پولیس کو دی۔ View image on TwitterView image on Twitter Follow ANI ✔ @ANI_news A person places Pakistan flag at his terrace in Nalanda district of Bihar. Police has got the flag removed now. 9:43 AM - 21 Jul 2016 392 392 Retweets 156 156 likes اطلاع کے فوری بعد پولیس نے اس شخص کے گھر پہنچ کر پاکستانی پرچم کو اتار دیا جبکہ اس معاملے کی تفتیش کا بھی آغاز کردیا۔ فوٹو بشکریہ / لائیو ہندوستان فوٹو بشکریہ / لائیو ہندوستان ایس پی کمار برکت نے بتایا کہ محمد جيادالدين رضا خان اور اس کی بیوی شبانہ انور نے بیٹے کی پیدائش کی منت مانگی تھی جس کے پوری ہونے پر انہوں نے اپنے گھر میں پاکستانی جھنڈا لہرایا۔ رپورٹس کے مطابق اب تک اس کیس میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی پرچم لہرانے والے شخص کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ مزید پڑھیں: ہندوستان: کشمیر میں پاکستانی پرچم فوٹو بشکریہ/ لائیو ہندوستان فوٹو بشکریہ/ لائیو ہندوستان واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل پاکستان میں ایک نوجوان نے اپنے مکان پر ہندوستان کا پرچم لگایا تھا جس پر اس شخص کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں تھانہ صدر کی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے عمر دراز ولد لیاقت علی کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بلے باز ویرات کوہلی کا مداح ہے ، اسی لیے اس نے اپنے مکان کی دیواروں پر اس کی تصاویر بھی لگا رکھی ہیں۔ خیال رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عمومی طور پر ہر جمعے کو پاکستان کی حمایت اور ہندوستان کی مخالفت میں پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔Rating:نالندا: ہندوستان میں ایک شخص نے اپنے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لگا دیا۔ ہندوستان کی ریاست بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے آبائی ضلع میں ایک شخص نے اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق نالندا کے ایک محلے میں رہائشی عمارت پر محمد جيادالدين رضا خان نامی شخص نے اپنے گھر پر پاکستان کا جھنڈا لگایا، جس کی اطلاع صبح سویرے علاقہ مکینوں نے مقامی پولیس کو دی۔ View image on TwitterView image on Twitter Follow ANI ✔ @ANI_news A person places Pakistan flag at his terrace in Nalanda district of Bihar. Police has got the flag removed now. 9:43 AM - 21 Jul 2016 392 392 Retweets 156 156 likes اطلاع کے فوری بعد پولیس نے اس شخص کے گھر پہنچ کر پاکستانی پرچم کو اتار دیا جبکہ اس معاملے کی تفتیش کا بھی آغاز کردیا۔ فوٹو بشکریہ / لائیو ہندوستان فوٹو بشکریہ / لائیو ہندوستان ایس پی کمار برکت نے بتایا کہ محمد جيادالدين رضا خان اور اس کی بیوی شبانہ انور نے بیٹے کی پیدائش کی منت مانگی تھی جس کے پوری ہونے پر انہوں نے اپنے گھر میں پاکستانی جھنڈا لہرایا۔ رپورٹس کے مطابق اب تک اس کیس میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی پرچم لہرانے والے شخص کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ مزید پڑھیں: ہندوستان: کشمیر میں پاکستانی پرچم فوٹو بشکریہ/ لائیو ہندوستان فوٹو بشکریہ/ لائیو ہندوستان واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل پاکستان میں ایک نوجوان نے اپنے مکان پر ہندوستان کا پرچم لگایا تھا جس پر اس شخص کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں تھانہ صدر کی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے عمر دراز ولد لیاقت علی کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بلے باز ویرات کوہلی کا مداح ہے ، اسی لیے اس نے اپنے مکان کی دیواروں پر اس کی تصاویر بھی لگا رکھی ہیں۔ خیال رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عمومی طور پر ہر جمعے کو پاکستان کی حمایت اور ہندوستان کی مخالفت میں پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ out of 5 stars

ہندوستانی شہری نے اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہرا دیا

مزید پڑھیں

نیٹو اتحادیوں پر حملہ، مدد سے پہلے سوچوں گا، ٹرمپ

out of 5نیویارک: امریکی صدارتی انتخاب کے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے اور روس نے نیٹو اتحادیوں پر حملہ کیا تو وہ مدد سے پہلے سوچیں گے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ حملے کی صورت میں مدد سے قبل اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا جس ملک پر حملہ ہوا ہے اس نے امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا نہیں۔ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ ملک امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھا رہا ہوگا تو میں اس کی مدد کا فیصلہ کروں گا ورنہ امریکا کا کردار صرف امدادی سرگرمیوں میں معاونت تک محدود ہوگا۔ یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ میں نیٹو کے رکن ممالک پر زور دوں گا کہ وہ اس دفاعی اتحاد کے اخراجات کا اتنا ہی بوجھ برداشت کریں جتنا امریکا دہائیوں سے کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکا اور نیٹو ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو جاری رکھوں گا لیکن صرف اس صورت میں جب وہ ممالک امریکا کی فراغ دلی کا ناجائز فائدہ اٹھانا بند کردیں گے۔ واضح رہے کہ ارب پتی امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں 'سب سے پہلے امریکا' کا نعرہ لگاتے آئے ہیں، انہوں نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ فصیلیں کھڑی کرنے کی بات کی، مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا، جنوبی کوریا اور جاپان کو ایٹم بم دینے کی بات کی۔ مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح بڑا عالمی خطرہ: رپورٹ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی نیٹو ممالک پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اس دفاعی اتحاد کے اخراجات میں برابر کا حصہ ملائیں ورنہ اس سے علیحدہ ہوجائیں۔ ترکی کو کریک ڈائون سے نہیں روکوں گا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو ترکی اور دیگر ممالک کی حکومتوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈائون سے روکنے کیلئے دبائو نہیں ڈالوں گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو دیگر ممالک کے رویوں کو درست کرنے کے بجائے اپنے مسائل سے چھٹکارا پانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'ہمیں کسی بھی ملک کو لیکچر دینے کا حق نہیں، ہمارے ملک میں کیا ہورہا ہے اسے دیکھنا چاہیے، ہم کیسے کسی اور کو لیکچر دے سکتے ہیں جبکہ خود ہمارے ملک میں لوگ پولیس اہلکاروں کو قتل کررہے ہیں؟' واضح رہے کہ ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے ترک حکام نے اس سازش میں شامل افراد کے خلاف کریک ڈائون شروع کررکھا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک مسلسل ترکی پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ کریک ڈائون کرتے ہوئے لوگوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنائے اور قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کو یقینی بنائے۔Rating:نیویارک: امریکی صدارتی انتخاب کے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے اور روس نے نیٹو اتحادیوں پر حملہ کیا تو وہ مدد سے پہلے سوچیں گے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ حملے کی صورت میں مدد سے قبل اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا جس ملک پر حملہ ہوا ہے اس نے امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا نہیں۔ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ ملک امریکا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نبھا رہا ہوگا تو میں اس کی مدد کا فیصلہ کروں گا ورنہ امریکا کا کردار صرف امدادی سرگرمیوں میں معاونت تک محدود ہوگا۔ یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ میں نیٹو کے رکن ممالک پر زور دوں گا کہ وہ اس دفاعی اتحاد کے اخراجات کا اتنا ہی بوجھ برداشت کریں جتنا امریکا دہائیوں سے کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکا اور نیٹو ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو جاری رکھوں گا لیکن صرف اس صورت میں جب وہ ممالک امریکا کی فراغ دلی کا ناجائز فائدہ اٹھانا بند کردیں گے۔ واضح رہے کہ ارب پتی امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں 'سب سے پہلے امریکا' کا نعرہ لگاتے آئے ہیں، انہوں نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ فصیلیں کھڑی کرنے کی بات کی، مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا، جنوبی کوریا اور جاپان کو ایٹم بم دینے کی بات کی۔ مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح بڑا عالمی خطرہ: رپورٹ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی نیٹو ممالک پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اس دفاعی اتحاد کے اخراجات میں برابر کا حصہ ملائیں ورنہ اس سے علیحدہ ہوجائیں۔ ترکی کو کریک ڈائون سے نہیں روکوں گا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو ترکی اور دیگر ممالک کی حکومتوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈائون سے روکنے کیلئے دبائو نہیں ڈالوں گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو دیگر ممالک کے رویوں کو درست کرنے کے بجائے اپنے مسائل سے چھٹکارا پانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'ہمیں کسی بھی ملک کو لیکچر دینے کا حق نہیں، ہمارے ملک میں کیا ہورہا ہے اسے دیکھنا چاہیے، ہم کیسے کسی اور کو لیکچر دے سکتے ہیں جبکہ خود ہمارے ملک میں لوگ پولیس اہلکاروں کو قتل کررہے ہیں؟' واضح رہے کہ ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے ترک حکام نے اس سازش میں شامل افراد کے خلاف کریک ڈائون شروع کررکھا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک مسلسل ترکی پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ کریک ڈائون کرتے ہوئے لوگوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنائے اور قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کو یقینی بنائے۔ out of 5 stars

نیٹو اتحادیوں پر حملہ، مدد سے پہلے سوچوں گا، ٹرمپ

مزید پڑھیں